اصحاب احمد (جلد 2) — Page 246
246 اور ۶۰۰۰ ۵ ہزار روپیہ مہر مقرر ہوا ہے۔اس وقت تک میں نے کوئی رشتہ پسند نہ کیا تھا اس میں بھی یہی لم " تھی کہ میں اس کوشش میں تھا۔راقم محمد علی خان اسی طرح انہیں دوسری بار تحریر کیا: بسم الله الرحمن الرحيم دارالامان قادیان ۲۲ فروری ۱۹۰۸ء برا در عزیز مسلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔آپ کی تار کے بعد کوئی تفصیلی خط وغیرہ نہیں آیا۔تا کہ میں اور خوش ہو جاتا۔کیا اچھا ہوتا کہ اصل حکم کی مجھ کو بھی نقل آپ بھجوا دیتے تا کہ مجھ کو قند مکرر کا لطف آتا۔یہ ایک خوشی مجھ کو حاصل ہوئی تھی اس کہ اس سے چند روز بعد دوسری خوشی مجھ کو حاصل ہوئی چنانچہ اس کی بابت میں آپ کو پہلے اطلاع کر چکا ہوں وہ یہ کہ میرا نکاح ہونے والا ہے۔چنانچہ بروز دوشنبه ۱۷ فروری ۱۹۰۸ء کو بعد نماز عصر میرا نکاح حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ضلع گورداسپور کی بڑی لڑکی سے ہو گیا ہے اور مہر ۵۶۰۰۰ ہزار روپیہ قرار پایا ہے۔یہ نکاح اس۔۔۔۔اعتقادی لحاظ سے جو ہم کو ہے نہایت ہی غیر مترقبہ اور میرے لئے فخر کا موجب ہے۔اطلاعاً آپ کو اطلاع دی گئی۔میں اسی روز اطلاع دیتا اور آپ کو شرکت کے لئے بھی تکلیف دیتا۔مگر جب مجھ کو اپنے نکاح کی اطلاع ملی تو صرف دو دن میرے نکاح میں تھے۔اور آپ کا پتہ مجھے کو معلوم نہ تھا اس لئے شرکت کے لئے تکلیف نہ دے سکا۔اور اب بھی مجھ کو یوم نکاح سے ہی زکام ہے اس وجہ سے خط نہ لکھا سکا۔بہتر ہو کہ آپ کی نقل وحرکت جب کبھی ہوا کرے مجھ کو اطلاع صحیح ملتی رہے تا کہ خط وغیرہ بھیجنے میں دقت نہ ہو۔راقم محمد علی خاں رخصتانه نواب مبار که بیگم صاحبه نواب صاحب لاہور گئے ہوئے تھے۔رخصتانہ کے لئے وہاں سے قادیان آئے۔رخصتانہ کے تعلق میں مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب کا شادی بیاہ کے معاملہ میں یہ خیال تھا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابتدائی زمانہ ہے اور ہم ابتدائی لوگ ہیں۔ہماری معمولی سی بے احتیاطی بھی بعد میں بُرے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔حضور نے بدقت ہمیں رسوم سے آزاد کرایا ہے اگر ہم پھر بھی ان رسوم کے پابند ہو گئے جس طرح پہلے مسلمان فرائض کی پابندی چھوڑ کر رسوم میں گرفتار ہو گئے۔تو ہم * یعنی وجہ۔مؤلف