اصحاب احمد (جلد 2) — Page 196
196 آگئیں تھیں اور بظاہر گویا سب خاندان سے قطع تعلق ہی کر لیا تھا۔قادیان میں جو اس وقت تک معمولی گاؤں تھا بقیہ حاشیہ: - لئے ان کی موت میرے لئے کوئی مرگ مفاجات نہ ہوئی گوتین دن کے اندر خا تمہ ہو گیا۔(۲) مذہب کی ڈور ہاتھ میں تھی دل کو فورا تسلی ہوگئی کہ خدا وند تعالیٰ نے اتنی ہی عمران کی رکھی تھی۔آخر اپنے اپنے وقت پر سب نے مرنا ہے اور ان کا یہ وقت تھا جو آ گیا پس اب بجائے رنج کے ان کے لئے مغفرت کا سامان کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان دنوں میں اور اب جب موقعہ لگتا ہے۔ان کے لئے دعا کرتا ہوں آپ خیال کر سکتے ہیں کہ دس سال کا مونس یک لخت الگ ہو گیا مگر دل پر کوئی ایسا صدمہ نہ پڑا جو میرے حواس پر کوئی اثر ڈالتا کیونکہ خداوند تعالیٰ نے مذہب کی ڈور پکڑائی ہوئی تھی (۳) جب یہ حادثہ ہوا تو میں نے پڑہا ہوا تھا کہ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ یعنی وہ عورتیں تمہارے لباس اور پردہ ہیں اور تم ان کا لباس اور پردہ ہو تو میری حالت ایسی ہوئی کہ میں جب اپنے پر خیال کرتا تھا۔تو مجھ کو اپنا آپ عریاں معلوم ہوتا تھا اور اس حالت نے فوراً مجھ کو مجبور کیا کہ میں جلد دوسرا نکاح کر لوں نکاح کا کرنا تھا کہ وہ غم بالکل جاتا رہا گواب تک کسی وقت پرانے مونس کی یاد ستاتی ہے وہی خدا تعالیٰ پر بھروسہ اس کو دور کر دیتا ہے۔مگر چنانچہ آپ کے پاس یہ دوا نہیں ہے اس لئے آپ کو یہ صدمہ اچانک معلوم ہوا دوسرے مذہب سا کوئی تسلی دہندہ نہ تھا اور نہ اب مذہبی مجبوریاں آپ کو جلد نکاح پر آمادہ کر سکتی ہیں تو اب دل کی دھڑکن کم ہو تو کس طرح ؟ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ ایسے صدمات انسان کو جگانے کے لئے ہوتے ہیں تا کہ وہ دنیا کی بے ثباتی پر غور کر کے اپنی اصلاح حال کرے اور اگلے جہان کی تیاری کے لئے طیار ہو، ان گروں کو ہم کو اس امام زمان نے بتلایا ہے جس نے بلند آواز سے کہہ دیا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور اس نے دعوی کیا کہ میں اسلام میں حضرت محمد مصطفے واحمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو کر محمد مسیح بن کر آیا ہوں اور اس وقت اگر کسی مذہب کو اسلام کے مقابلہ پر دعویٰ ہے تو سامنے آئے اور اس کو پاش پاش کر دوں گا اور اسلام ہی کا بول بالا ہوگا۔پھر خونی مسیح نہیں بلکہ احمدی مسیح صلیب کو توڑنے کے لئے آیا ہے اس کی زبان میں عجب شیرینی ہے اس کے افعال و اعمال میں تاثیر ہے۔پھر روحانی اور جسمانی مرضوں کا طبیب ہے۔اس چشمے سے جو محمد کے بڑے چشمے سے نکلا ہے۔عجب معرفت کا پانی نکلتا ہے پس ایسے وقت میں وہ شخص بڑا ہی محروم ہے جو تحقیقات مذہبی کر کے اس امام سے فائدہ نہ اٹھائے اور اس سے تعلقات پیدا نہ کرے۔آپ نے دیکھا کہ دنیا کیسی بے ثبات چیز ہے۔پس اس کے لئے انسان (کو) اس قدر کاوش نہ چاہئے۔میرے پیارے بھائی میں نہایت درد دل سے لکھتا ہوں کہ آپ اپنے روحانی جسمانی علاج کے لئے کم از کم بطور سیاحت ہی آجائیں گو یہاں تکلف اور آرام کے وسیع مکانات نہیں ایک فقیرانہ حالت ہے مگر آئیں اور