اصحاب احمد (جلد 2) — Page 197
197 جہاں معمولی اشیاء ضروریات زندگی کی بھی نہ ملتی تھیں۔ہر طرح کے عیش و آرام کو جواب دے کر چلے آنا اور تمام زندگی یہاں گذار دینا بہت بڑی قربانی تھی۔ہجرت کے بعد صرف ایک بار ۵ء میں وہ مالیر کوٹلہ گئیں اور واپس آکر ۱۹۰۶ء میں وفات پائی (م) مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ خالہ جان کی اس بیماری میں حضرت اقدس نے حضرت مولوی نورالدین کے ذریعہ نواب صاحب سے کہا کہ بڑے باغ میں کھلی ہوا میں جا کر رہنا مفید ہو گا۔باغ والے مکان میں چلے جائیں۔چنانچہ نواب صاحب خالہ جان کو وہاں لے گئے۔ان دنوں باغ کا انتظام میر ناصر نواب صاحب کے سپر دتھا۔انہوں نے باغ کی حالت بہت عمدہ بنارکھی تھی۔حضور نے ان کو کہہ دیا کہ نواب صاحب یہاں آئے ہیں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔اگر کسی قسم کا نقصان کریں تو اغماض فرما ئیں ، وہاں جو ہی کے پھول بھی تھے جو ہر روز حضور کے لئے لے جائے جاتے تھے۔مگر ہم صبح سویرے اُٹھتے ہی تو ڑ لیا کرتے تھے۔اس عرصہ میں علاج حضرت مولوی نورالدین صاحب کا تھا۔مگر حضور خود بھی بعض دوائیں تجویز فرماتے اور ہر دس بارہ دن کے بعد خود عیادت کے لئے تشریف لاتے تھے۔جب خالہ صاحبہ فوت ہو گئیں حضور بھی تشریف لائے فرمایا۔”مجھے تو پہلے ہی اللہ تعالے انے رؤیا کے ذریعہ خبر دیدی تھی۔اور اس کی تفصیل بیان فرمائی گویا کہ مرحومہ کی وفات حضرت اقدس کی صداقت کے نشانات میں سے ایک نشان تھا جو باوجود صدمہ کے خصوصاً نواب صاحب کے لئے از دیا دایمان کا موجب ہوا ہو گا۔اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لئے مصائب کو سہل کر دیتا ہے اور انہیں اجر عظیم کا موجب بنا دیتا ہے۔بقیہ حاشیہ: - دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے مجھ کو یقین ہے ) کہ جب آپ یہاں آ کر تحقیقات کریں گے تو آپ کے امراض اور غم میں نمایاں فائدہ ہو گا خدا کرے کہ آپ پر اس خط کا اثر ہو اور آپ یہاں تشریف لے آئیں یہاں پر روحانی علاج امام زماں کریں گے اور حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب جسمانی علاج کے لئے ہیں ، آپ ضرور تشریف لائیں۔یہاں ایک انگریزی میگزین نکنے والا ہے اس کا پراسپیکٹس عنقریب آپ کے پا س پہنچے گا۔سوائے نزلہ اور کھانسی کے ہم سب اچھے ہیں۔راقم محمد علی خاں۔حضور نے اس نشانات کا ذکر کر تمہ حقیقۃ الوحی میں ان الفاظ میں کیا ہے۔مجملہ ان نشانوں کے یہ نشان ہے کہ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس کوٹلہ مالیر کی نسبت میرے پر خدا تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ ان کی بیوی عنقریب فوت ہو جائے گی اور موت کی خبر دیگر یہ بھی فرمایا کہ دردناک دکھ اور دردناک واقعہ