اصحاب احمد (جلد 2) — Page 156
156 آئے گا۔یہ تجویز خوب معلوم ہوتی ہے کہ ہر ایک روپیہ جو ایک رجسٹر میں درج ہوتا رہے اور پھر دو ماہ بعد سب حقیقت معلوم ہو جائے۔والسلام حضرت اقدس کا مدرسہ کے چندہ کے متعلق اعلان غلام احمد عفی عنہ دو ماہ تک چندہ دینے کی مقدار کا جو علم حاصل ہوا ہو گا اسے حضور نے دیکھ لیا ہوگا۔چنانچہ حضور نے ذیل کا اعلان جماعت کے لئے فرمایا۔اس اعلان سے مدرسہ کی اہمیت اور نواب صاحب کی اس بارے میں ذمہ داری کا اندازہ ہوجاتا ہے حضور فرماتے ہیں : حضرت اقدس کا خط بسم الله الرحمن الرحيم ال احمدی قوم کے نام نحمده و نصلى على رسوله الكريم بخدمت جمیع اخوان واحباب ایں سلسلہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،سب سے پہلے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں جوش مارتا ہے جس نے میری جماعت کو سچی ارادت اور محبت اور ہمدردی عطا فرمائی ہے، اگر خدا تعالے کا فضل ان کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ تو فیق ان کو ہرگز نہ دی جاتی کہ وہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قدم پر اس درجہ پر اطاعت کرتے کہ باوجود اپنی مالی مشکلات اور کی آمدن کے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت مالی میں مصروف ہوتے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سب کے مالوں میں برکت دے اور یہ نصرت اور عانت جو وہ دینی اغراض کی تکمیل کے لئے کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ دونوں جہانوں میں ان کی بھلائی کا موجب کرے آمین ثم آمین۔بعد اس کے اے عزیز ان اس وقت اخویم مرزا خدا بخش صاحب کو آپ صاحبوں کی خدمت میں اس غرض کے لئے روانہ کیا جاتا ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مدرسہ قادیان کی قائمی کے لئے جو آمدن ہونی چاہئے اس کی حالت بہت ابتر ہے اور اگر یہی یہ مکتوب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے پاس محفوظ ہے یہ فروری ۱۹۰۲ء کا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اس کی خط کشیدہ عبارت اور اشتہار حضرت اقدس مندرجہ الحکم ۲۴ جون ۱۹۰۲ء جو آگے درج کیا گیا ہے کے ملانے سے ظاہر ہے مکتوبات میں یہ مکتوب نمبر ۶۰ ہے لیکن یہاں اصل سے نقل کیا گیا ہے۔