اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 157 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 157

157 حال رہا تو پھر اس مدرسہ کا قیام مشکل ہے اگر چہ ہمارے سلسلہ کے لئے جو اصل غرض ہماری زندگی کی ہے کوئی عمدہ نتیجہ معتد بہ ابھی تک اس مدرسہ سے پیدا نہیں ہوا۔مگر اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ اگر پوری احتیاط اور انتظام سے کام لیا جاوے تو پیدا ہوسکتا ہے زمانہ حال میں حکمت عملی پر چلنے والے جس قدر فرقے ہیں انہوں نے مان لیا کہ سادہ دلوں پر اثر تعلیم ڈالنے کے لئے جس قدر سریع الاثر اور جاندار یہ طریق ہے۔اور کوئی طریق نہیں اسی لئے وہ لڑ کے جو پادریوں کے سکولوں کالجوں میں پڑھ کر اور ایک مدت تک ان کے زیر اثر رہ کر جس قدر خراب ہوتے اور نفرت دل سے اسلام کے دشمن ہو جاتے ہیں اس قدر وہ لوگ خراب اندرون نہیں ہوتے جو محض روپیہ کے لالچ سے عیسائی ہوتے ہیں۔سو جب کہ دلوں پر اثر ڈالنے کا ایک یہ بھی طریق ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔بہر حال اس مدرسہ کا قائم رہنا اسی بات پر موقوف ہے کہ ہماری جماعت کی اس طرف بھی پوری توجہ ہو۔باعث اس سلسلہ کی ابتدائی حالت کے ہر یک شاخ میں مشکلات تو بہت ہیں۔مینار کے لئے بھی ابھی روپیہ کافی نہیں۔بعض کتابیں جن کے لئے ارادہ ہے کہ کم سے کم ہیں ہزار چھپ جائیں ان کے لئے کچھ بھی سامان نہیں۔مہمان خانہ کے لئے بعض ضروری عمارتوں کی ضرورت ہے ان کے لئے روپیہ مہیا نہیں یہ ایسے امور ہیں کہ ابھی ہماری جماعت کی طاقت سے خارج معلوم ہوتے ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ ان غموں کو خدا تعالیٰ ہمارے دل پر سے دور کر دے لیکن ہماری جماعت کی توجہ ہو تو قادیان کے مدرسہ کے قائم رہنے کے لئے بالفعل بہت مدد کی ضرورت نہیں۔اگر ایک ہزار آدمی چار چار آنے ماہواری اپنے ذمہ قبول کر لے تو اڑ ہائی صد روپیہ ماہواری مدرسہ کومل سکتا ہے اور رونق کے بعد فیس کی آمدنی بھی ہو سکتی ہے۔غرض اس مشکل کے دور کے لئے مرزا خدا بخش صاحب کو روانہ کیا جاتا ہے ہر ایک صاحب جو اس کام کے لئے کوئی مدد تجویز فرمائیں وہ لنگر خانہ سے اس مدد کو مخلط نہ کر دیں۔یہ اختیار ہوگا کہ اگر مقدرت نہ ہو تو لنگر خانہ کی رقم سے جوان کے ذمہ ہے کچھ کم کر کے اس میں شامل کر دیں۔مگر اس کو بالکل الگ رکھیں اور یہ رقم بخدمت مجی عزیزی اخویم نواب محمد علی صاحب بمقام قادیان یا جس کو وہ تجویز کریں۔آنی چاہئے۔تا حساب صاف رہے کیونکہ لنگر خانہ کا روپیہ میرے پاس پہنچتا ہے اور یہ کام