اصحاب احمد (جلد 2) — Page 52
52 بغایت درجہ کی فرصت تھی کیونکہ ہر روز مضمون طیار کر کے دیا جاتا ہے۔اس لئے میں جواب لکھنے سے معذور رہا اور آپ کی طرف سے تقاضا بھی نہیں تھا۔آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ آپ ایک خالص محب ہیں اور آپ کا استفسار سراسر نیک ارادہ اور نیک نیت پر مبنی ہے اس لئے بعض امور سے آپ کو آگاہ کرنا اور آپ کے لئے جو بہتر ہے اس سے اطلاع دینا ایک امر ضروری ہے۔۴۸ مباہلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے نواب صاحب کے ارادہ کا توارد ہوا۔جو کہ آپ کی طہارت قلب اور صفائی باطن پر دال ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: وو مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ جل شانہ نے اجازت دیدی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کے ارادہ کا تو ارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی۔" نیز حضور فرماتے ہیں: مجھے دلی خواہش ہے اور میں دُعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ آجاوے کہ در حقیقت ایمان کے مفہوم کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ پوشیدہ چیزوں کو مان لیا جائے اور جب ایک چیز کی حقیقت ہر طرح سے کھل جائے یا ایک وافر حصہ اس کا کھل جائے تو پھر اس کا مان لینا ایمان میں داخل نہیں۔حضرت نواب صاحب کے استخارہ کے متعلق دعا کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: میں یہ عہد نہیں کر سکتا کہ ہر یک شخص کو ہر ایک حالت نیک یا بد میں ضرور خواب آجائے گی۔لیکن آپ کی نسبت میں کہتا ہوں کہ آپ چالیس روز تک رو بھت ہوکر بشرائط مندرجہ نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہو۔تا میری توجہ زیادہ ہو۔آپ پر کچھ ہی مشکل نہیں لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔حضور نواب صاحب کو اس امر کی مزید ترغیب دیتے ہوئے کہ وہ حضوڑ کے پاس رہ کر استخارہ کریں۔تحریر فرماتے ہیں: بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص سچی خواب دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس