اصحاب احمد (جلد 1) — Page 133
131 ہونے کی طرف اشارہ تھا وہاں یہ خواب اس کے نتیجہ میں نور ہدایت پانے کی طرف رہنمائی کرتی تھی۔بیماری موجب ہدایت ہوئی: اگست ۱۸۹۹ء میں آپ مرض سل سے سخت بیمار ہوئے دایاں پھیپھڑا ماؤف ہونے سے کئی ماہ تک لازمی تپ لاحق رہا۔لیکن باوجود ہر قسم کا علاج اور سہولت میسر آنے کے بیماری بڑھتی گئی اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔کسی کے بتلانے پر آپ نے ڈاکٹر عباداللہ صاحب امرتسری * رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف رجوع کیا۔چنانچہ بفضلہ تعالیٰ آپ کو بیماری سے شفاء ہوئی۔لیکن کسی قدر کھانسی اور زکام لگارہتا تھا۔جس ڈاکٹر کو دکھاتے وہ پھیپھڑوں کی تقویت کے لئے کا ڈلور آئل (Cod Liver Oil) یا اس قسم کی ادویہ دیتے۔آپ کو اندیشہ رہتا تھا کہ اصل مرض سل تو نہ کبھی دور ہوتی ہے نہ ہوئی ہے۔اسی اثناء میں ایک دفعہ آپ مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ مسیح الاول ) رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیماری کا حال سنایا اور یہ بھی کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ سل کا مرض لاعلاج ہے۔اس پر حضور نے بڑے جوش سے فرمایا: بکواس کرتے ہیں۔حکیموں کے بادشاہ نے فرمایا ہے کہ لِكُلِّ دَاءِ دَوَاء۔آپ کو سوائے Dyspepsia ( یعنی بد ہضمی ) کے اور کوئی مرض نہیں۔اور Ostrich Pepsin اور Pancreatic Emulsion استعمال کرنے کو کہا۔ڈاکٹر عباداللہ صاحب نے پوچھا کہ اگر شتر مرغ کی پیپسین نہ ملے تو پھر؟ فرمایا پھر بھیڑ کی استعمال کر لیں۔لاہور کے مشہور دوا فروش پلومر نے اطلاع دی کہ ہم نے اس دوائی کا نام کبھی کبھی نہیں سنا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں نے تو مصر سے منگوا کر کئی دفعہ استعمال کی ہے۔چنانچہ ملک صاحب نے بھیڑ کی پپسین اور دوسری دوائی استعمال کی جس سے کوئی دو ہفتہ میں جملہ شکایات رفع ہوگئیں۔یہ بیماری بالآخر بمصداقے ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند روحانی زندگی کا موجب بن گئی۔یوں کہ ڈاکٹر صاحب سے تعلق ہو جانے کی وجہ سے آپ نے اُن کے محلہ میں اپنی رہائش اختیار کر لی اور یہ علق بڑھ کر محبت واخوت کا رنگ اختیار کر گیا۔اب آپ مرض سے شفایاب ہو چکے تھے۔لیکن رخصت ابھی ۱۵ جون ۱۹۰۰ ء تک باقی تھی کہ ایک غیر احمدی نے آپ کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی تحریک کی۔جس پر آپ نے اپنی بڑی بھا وجہ سے قران مجید ناظرہ پڑھنا شروع کیا۔اور پھر حافظ نذیر احمد صاحب دہلوی کا با محاورہ ترجمہ خود ہی پڑھ کر یاد کرنے لگے۔اس کے لئے یہ * ڈاکٹر صاحب افریقہ میں فوت ہوئے تھے۔آپ کا کتبہ بہشتی مقبرہ میں لگا ہوا ہے۔(مؤلف)