اصحاب احمد (جلد 1) — Page 134
132 طریق اختیار کیا کہ پہلے آپ اردو ترجمہ پڑھ لیتے پھر عربی۔بہت سے الفاظ ایسے ہوتے جو اردو میں بھی ہوتے باقی الفاظ کا ترجمہ آپ یاد کر لیتے۔اسی غیر احمدی کی تحریک پر کہ مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی قرآن مجید کا بہت عجیب درس دیتے ہیں آپ مسجد غزنویاں میں پہنچے۔اس دن سورہ الکھف میں ذوالقرنین والے رکوع کا درس تھا۔مولوی صاحب نے ایک حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ صحابہ فوج سے الگ ہوکر جنگل میں بھٹک گئے اور جب واپس آئے تو کہنے لگے کہ ہم نے سد سکندری دیکھی ہے۔سیاہ رنگ کی تھی اور پٹکے کی طرح اس میں دھاریاں تھیں۔اس پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب نے کہا کہ یہ ( نعوذ باللہ ) مرزا کا فرکہتا ہے کہ یہ دیوار ملک چین میں ہے۔کبھی کسی اور جگہ بتاتا ہے۔اور اس نے چند نا واجب الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں کہے۔جس سے ملک صاحب کو محض اس لئے نفرت پیدا ہو گئی کہ ان باتوں کا درس قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا اور ایک غائب شخص کو خواہ مخواہ گالیاں دی جا رہی تھیں۔اس درس میں شمولیت کا پہلا دن ہی آخری دن ثابت ہوا۔اور آپ اس کے بعد کبھی اس درس میں شامل نہ ہوئے۔چند دن کے بعد احمدیوں کی مسجد میں حافظ احمد اللہ صاحب نے قرآن مجید کا درس دینا شروع کیا جس میں شامل ہوتے رہے۔اس کا آپ کی طبیعت پر اثر ہوا کہ احمدی قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر زیادہ معقولیت کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔مطالعہ کتب سلسلہ پہلی بار زیارت قادیان: پھر آپ ڈاکٹر عباداللہ صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض کتب حاصل کر کے مطالعہ کرتے رہے۔اس اثناء میں ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے احمدیوں کی مسجد میں خطبہ جمعہ پڑھا اور اس میں حضرت اقدس کی صداقت پر آیت استخلاف سے استدلال کیا جس سے ملک صاحب احمدیت کے اور قریب ہو گئے۔چند روز بعد آپ نے کتاب شہادۃ القرآن پڑھی۔جس میں حضور نے انہی آیات سے نہایت عمدہ طریق پر اپنی صداقت کا استدلال فرمایا ہے۔آپ نے ایک رات میں دو دفعہ اس کتاب کو پڑھا اور اس کے مطالعہ سے آپ کے قلب صافی پر صداقت کا نور نازل ہو گیا اور آپ دل سے احمدیت کی سچائی کے قائل ہو گئے۔دسمبر ۱۹۰۰ء کے جلسہ سالانہ پر ڈاکٹر صاحب نے آپ کو قادیان چلنے کی دعوت دی۔لیکن ملک صاحب نے آمادگی کا اظہار نہ کیا۔ڈاکٹر صاحب نے اگلے دن روانہ ہونا تھا کہ ملک صاحب نے بوقت صبح خواب دیکھا کہ پنڈت بیج ناتھ جو بیج ناتھ سکول امرتسر کے بانی اور آپ کے دوست تھے آپ سے پوچھتے ہیں کہ (حضرت ) مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہو۔آپ نے جواب دیا کہ میں ان کو مسیح موعود اور مہدی معہود خیال کرتا ہوں۔پھر خواب میں ہی