اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 216 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 216

215 حضرت مولانا میرمحمد سعید صاحب کا چھ ماہ تک قادیان میں قیام رہا۔آپ کی واپسی کے ذکر میں آپ کے رفقاء کا ذکر نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے واپس جاچکے ہوں گے۔سے مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش ذکر کرتے ہیں کہ مجھے ان دوستوں کی قادیان میں آمد بوجہ ایک جیسا رنگ کے ہونے کے اور دور سے آنے کے اچھی طرح یاد ہے۔سیٹھ صاحب بھی ان میں شامل تھے۔قادیان میں تھوڑ اعرصہ ہی قیام رہا تھا۔آپ بہت ہی منکسر المزاج اور خاموش طبع تھے۔حضور کی مجلس میں خاموش ہی رہتے تھے۔دوبار پھر زیارت قادیان: حضور کے عہد مبارک میں آپ کو دوبار پھر قادیان آنے کا موقعہ ملا۔فرماتے تھے : اس کے بعد دوسری مرتبہ میں قادیان پھر دو سال بعد گیا ہوں گا۔سن یاد نہیں۔تین چار روز ٹھہرے۔ادب کی وجہ سے کوئی گفتگو نہیں کرنا۔صرف حضور کا چہرہ دیکھ لینا اور حضور کی باتیں سننا۔اس کے بعد تیسری مرتبہ میں قادیان گیا تو اس وقت بھی یہی کیا۔مصافحہ کرنا اور حضور کی صورت دیکھ لینا اور حضور کی باتیں سننا۔ہر مرتبہ جب ہم واپس ہوتے تو باوجود ٹانگوں کی موجودگی کے اپنے خدام کو چھوڑنے کے لئے حضوڑ نہر تک پیدل تشریف لاتے۔باوجود اصرار کے بھی ٹانگوں پر نہ بیٹھتے۔رخصت کرتے وقت دعا کے بعد ہمیشہ فرماتے۔مجھ سے ہمیشہ ملا کرو اور بار بار قادیان آیا کرو۔ہم کو اس قدر تڑپ ہوتی تھی کہ کسی طرح اس مبارک چہرہ کو دیکھیں اور حضور کی باتیں سنیں۔حضور اس نا چیز خادم کو سیٹھ صاحب“ کے لقب سے یاد فرماتے چنانچہ حضور کی دعاؤں کے طفیل خدا نے عاجز کو فی الواقع مالا مال کر دیا اورسیٹھ بنادیا۔* بقیه حاشیه : اور سیٹھ صاحب اپنے بیان کے مطابق صرف تین دن مقیم رہے۔الحکم جلدم نمبر ا ( صفحہ ۷ ) بابت ۱۷ نومبر ۱۹۰۰ ء میں حیدر آباد دکن کے اتنی احباب کی بیعت شائع ہوئی ہے۔ان میں سید محمد سعید صاحب اور سید محمد رضوی صاحب کے اسماء بھی شامل ہیں۔اس فہرست میں کوئی سہو ہوا ہے کیونکہ اس سے سوا سال قبل ان دونوں کی حیدرآباد میں قائم کردہ انجمن کی روئیداد شائع ہوئی۔وہاں مکرم ایڈیٹر صاحب نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ سید محمد سعید صاحب کے ذریعہ ڈیڑھ صد کے قریب لوگ احمدیت قبول کر چکے ہیں۔(الحکم جلد ۳ نمبر ۲۰ (صفحہ اکالم ۱) بابت ۳۱ جولائی ۱۸۸۹ء۔شاید فہرست بھیجنے کی وجہ سے بھیجنے والوں کا نام سہو سے شائع ہو گیا ہو۔یا یہ فہرست بہت پہلے کی ہوگی اور لمبے عرصے کے بعد شائع ہوئی۔واللہ اعلم۔(مؤلف) (الف) سیٹھ صاحب نے زیارت قادیان کے متعلق یہ دونوں روایتیں بتاریخ ۵ استمبر ۱۹۴۱ء یادگیر میں لکھوائی تھیں۔آپ کی زندگی میں ہی مرکز کو اخویم مولوی محمد اسماعیل صاحب نے بھجوادی تھیں۔(ب) مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ حضور آپ کو سیٹھ صاحب“ کے الفاظ سے مخاطب فرماتے تھے۔(مؤلف) *