اصحاب احمد (جلد 1) — Page 217
216 قبول احمدیت سے انقلاب : سیٹھ صاحب نے قبول احمدیت کے بعد مولانا میر محمد سعید صاحب سے دریافت کیا کہ اب ہم کیا کریں۔میر صاحب نے فرمایا کہ پانچ وقت نماز با جماعت ادا کریں۔قرآن مجید پڑھیں اور تہجد ادا کیا کریں۔اور خدا تعالیٰ کی مخلوق سے بھلائی کریں۔سیٹھ صاحب بیان کرتے تھے کہ پہلے مجھے نماز کی عادت نہ تھی اور نہ ہی تہجد اور قرآن مجید سے شناسا تھا۔کوشش سے تہجد میں باقاعدگی ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز میں ایک ذوق اور شوق حاصل ہوا۔کئی دن بعد ایک روز تہجد سے فارغ ہوا تو میری زبان پر بار بار وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کے الفاظ جاری ہوئے۔اور زبان انہیں بار بار دہرانے لگی۔اور خود بخود ہی گریہ و بکا شروع ہو گیا۔میری اہلیہ پیرساں بی نے رونے کا سبب دریافت کیا۔میں نے یہ بات کہ سنائی۔لیکن عربی نہ انہیں آتی تھی نہ مجھے۔ایک بار آپ کو سَلَام قَوْلاً مِن رَّبِّ رَّحِیم الہام ہوا۔بعد میں سیٹھ صاحب پر مصائب کی تیز آندھیاں چلیں۔اور مخالفین مخالفت میں سرگرم رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام شرور و آفات سے اپنی حفظ وامان میں رکھا۔اور آپ کو الہامات و کشوف سے نوازا۔ایک دفعہ رویا میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت دودھ پلایا۔جس کا مزہ منہ میں بیدار ہونے پر بھی موجود تھا۔سو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایمان و عرفان سے بہرہ وافر عطا ہوا۔بیعت کے بعد آپ کی زندگی میں جو انقلاب رونما ہوا اس کے متعلق مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سیٹھ محمد غوث صاحب رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں فرماتے ہیں کہ وہ: اپنے بھائی سیٹھ حسن احمدی کو دیکھتے تھے۔اُن کی زندگی میں ایک صادق مسلم اور غیور مومن کے آثار نمایاں پاتے تھے۔ان کے تقویٰ وطہارت نفس کو علی وجہ البصیرۃ جانتے تھے۔اور دیکھتے تھے کہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو کر اُن کی خوبیاں اور نیکیاں ایک جلا حاصل کر رہی ہیں اور حسنات اور رفاہ عام کی قوتوں میں نشو ونما ہو رہا ہے“ سے قبول احمدیت کے بعد مال میں برکت : سیٹھ صاحب کے والدین سخت غریب تھے جب تک والدہ بھی محنت نہ کرتیں گذر اوقات محال تھی۔ابتداء میں آپ شولا پور میں کام کرتے تھے۔پھر حیدر آباد دکن چلے آئے۔یہاں آپ تیل کا پہیہ کندھوں پر اٹھائے یا بنڈی ( چھکڑے ) پر لئے پھرتے اور فروخت کرتے۔پھر چند بچے ملازم رکھ کر بیٹری بنانے کی دکان کھول لی جس سے قدرے مالی فراخی ہوئی۔کچھ عرصہ بعد آپ نے بمقام یاد گیر کسی کی شراکت سے اور بعد میں بلا شرکت غیرے بیڑی کی فیکٹری کھول لی۔ابتداء میں آپ کی اہلیہ محترمہ پیر ساں بی صاحبہ بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے