اصحاب احمد (جلد 1) — Page 215
214 میں حضور کی زندگی میں تین مرتبہ قادیان گیا ہوں۔پہلی مرتبہ جانے کا سن صحیح طور پر یاد نہیں۔۱۹۰۰ء سے ایک سال پہلے یا ایک سال بعد ہوگا۔میں مولوی میر محمد سعید صاحب مرحوم حیدر آبادی کے ساتھ قادیان گیا تھا۔اس وقت حضور ایک حجرہ میں تشریف فرما رہتے تھے۔جو مسجد مبارک کے ساتھ ملا ہوا تھا۔بہت تھوڑے آدمی اس میں بیٹھ سکتے تھے۔جس مقام پر بالعموم حضور بیٹھا کرتے تھے وہاں جا کر میں بیٹھ گیا لوگوں نے مجھے نہیں اٹھایا۔مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ حضوڑ کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔پھر جب حضور تشریف لائے اور لوگوں نے مصافحہ شروع کیا تو میں بھی اُٹھا۔حضور نے اپنے ہاتھوں کے اشارے سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔پھر حضور مجلس میں تشریف فرما ہوئے۔اس طرح کہ حضور والا کی مانڈی (ران) میری مانڈی پر تھی۔میں ہٹنے کی کوشش کیا۔حضور نے ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہیں بیٹھے رہیئے۔مجلس میں تمہیں آدمی ہوں گے۔یہ موسم بہار کے دن تھے ظہر کی نماز کی بات ہے۔تین روز وہاں قیام رہا۔حضور کے ساتھ دوسرے روز سیر کو گئے۔مغرب سے پہلے ہم مردان علی صاحب حیدر آبادی۔حضرت میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی) اور دوسرے لوگ دس میں آدمی تھے۔حضرت صاحب کے مکان میں ہی سے کھانا کھاتے۔ہم حیدر آبادیوں کے متعلق حضوڑ اندر سے کہلوا بھیجے کہ حیدر آبادیوں کو ابھی کھانا نہ کھلوایا جائے۔اس کے بعد بعد مغرب حضور خود تشریف لائے اور دستر خوان بچھوایا گیا۔مولوی میر محمد سعید صاحب کے سوال پر حضوڑ نے فرمایا کہ آپ کو میں نے اس لئے روک لیا تھا کہ آپ لوگ حیدر آبادی ہیں جو چاول کھانے کے عادی ہیں۔اس لئے میں نے چاولوں کے پکوانے کا بندوبست کیا۔“ الحکم سے ہمیں ذیل کا اقتباس ملتا ہے : حیدر آباد دکن سے پانچ آدمی اس وقت دار الامان میں حضرت اقدس کی پاک صحبت سے فیض اٹھا رہے ہیں۔جن میں سے حضرت مولانا سید محمد سعید صاحب اور مولانا سید محمد رضوی صاحب دو بڑے سرگرم اور پُر جوش اور غیور ارادتمند ہیں۔جن کی سعی اور کوشش سے حیدر وو آباد دکن میں ایک مستقل جماعت حضرت اقدس کی بفضلہ تعالیٰ قائم ہوگئی ہے“۔* * الحکم جلد نمبر ۱۸ ( صفحه ۱۵ کالم ۳) بابت ۷ امئی ۱۹۰۰ء۔الحکم میں پانچ افراد کا ذکر ہے اور سیٹھ صاحب کی روایت میں دس ہیں کا۔ممکن ہے کہ قافلہ کا ایک حصہ جاچکا ہو۔جیسا کہ بعد میں چھ ماہ تک مولوی میر محمد سعید صاحب کا قیام رہا (باقی اگلے صفحہ پر )