اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 206 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 206

205 دوسری پانچ نمازیں۔موسم کی کوئی حالت ان کی بیماری کوئی چیز ان کی تہجد کی نماز میں روکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ایسے بہت ہی کم لوگ ہوں گے۔جنہوں نے سالہا سال تک بغیر کسی ناغہ کے تہجد کی نماز پڑھی ہو۔منشی صاحب ان چند لوگوں میں سے تھے۔ایسے ہی میرے والد ملک نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔میں نے اپنی ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اپنے والد مرحوم و مغفور کی تہجد کی نماز ضائع ہوتے نہیں دیکھی۔سوائے اس کے کہ وہ ایسے سخت بیمار ہوں کہ ان کے ہوش قائم نہ رہے ہوں۔حضرت منشی صاحب کی طرح میرے والد صاحب نماز با جماعت کے بھی سخت پابند تھے میں نے خود تو کبھی بھی یہ نہیں دیکھا کہ میرے والد صاحب نے کسی نماز کے فرض گھر پر پڑھے ہوں۔لیکن میری والدہ صاحبہ کہتی تھیں کہ جس دن عصر کے وقت دل کی حرکت بند ہو جانے سے میرے والد صاحب کی وفات ہوئی۔صرف اس دن کی ظہر کی نماز والدہ صاحبہ کے اصرار پر انہوں نے گھر پر پڑھی۔صاحب کشف والہام ہونا : غرضیکہ حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب ایک نہایت ہی متقی باعمل اور غیرت مند احمدی تھے۔وہ صاحب کشوف والہام بھی تھے۔میں نے خودان کے الہامات کو پورا ہوتے دیکھا۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ جوانی میں ایک دفعہ ان کوسل ہوگئی وہ قادیان برائے علاج آئے سید نا حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور افسوس سے فرمایا یہ بات حد سے گذرگئی ہے لیکن ہم دعا بھی کرینگے اور علاج بھی کریں گے۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے بھی بہت غم ہوا۔میں نے بھی دعا شروع کی تو مجھے الہام ہوا ابھی مادہ حیات بہت باقی ہے۔یہ الہام کس شان سے پورا ہوا۔اسی بات سے ظاہر ہے کہ منشی صاحب کی عمر وفات کے وقت ۸۵ سال کے لگ بھگ تھی۔آنحضرت صلعم سے محبت ہونا : حضرت منشی صاحب کے کیریکٹر کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی۔بے حد ہی محبت تھی۔میں برسوں ان کے پاس بیٹھا میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کے سامنے کسی نے کیا ہو۔یا انہوں نے خود کیا کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا نہ آئی ہوں۔مجھے اپنے متعلق بھی بعض