اصحاب احمد (جلد 1) — Page 207
206 دفعہ یہ خیال آتا ہے کہ مجھے بھی حضور صلے اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت ہے لیکن حضرت منشی صاحب کی اس بارہ میں جو حالت تھی میں اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا“ خاکسار مؤلف کو بھی اس کا تجربہ ہے۔مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ( در ولیش ) نے منشی صاحب کی وفات کی خبر سن کر مجھ مؤلف کو یہی بات سنائی بلکہ یہ بھی بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر بھی آپ کی ایسی ہی حالت ہو جاتی تھی۔آپ کا امین ہونا : مکرم ملک غلام فرید صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں: منشی صاحب کے کیریکٹر کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ صادق اور امین تھے۔جب وہ سیالکوٹ میں تھے وہاں بھی اور قادیان میں بھی میں نے خود دیکھا ہے کہ ہزاروں روپے کی امانتیں لوگوں کی ان کے پاس جمع رہتی تھیں اور کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی صاحب نے اپنا روپیہ آپ سے مانگا ہو اور انہوں نے اس کی امانت کے ادا کرنے میں ایک منٹ کی دیر بھی کی ہو۔منشی صاحب کی اپنی آمد نہایت قلیل تھی۔میں سیالکوٹ کے متعلق تو نہیں جانتالیکن قادیان میں ان کا گزارہ بظاہر اس تنخواہ پر تھا جو ان کو بحیثیت ٹیوٹر کے ملتی تھی اور وہ ہیں روپے ماہوار سے بھی کم تھی۔لیکن حضرت منشی صاحب کا کافی کنبہ تھا۔چارلڑ کے تھے۔ایک امرتسر میں میڈیکل سکول میں پڑھتا تھا۔دو ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔لوگ بھی حیران تھے اور میں خود بھی تعجب کیا کرتا تھا کہ منشی صاحب گذارہ کس طرح کرتے ہیں۔وہ اور اُن کے بچے خوش پوش بھی تھے۔کھانا بھی درمیانہ قسم کا کھاتے تھے۔وہ کس طرح اپنی ضروریات کو نہیں روپے سے بھی کم تنخواہ میں پورا کرتے تھے۔یہ بھید اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ بھید ہوتے ہیں جن کو اس مردود دنیا کے فرزند نہیں جانتے اور نہیں جان سکتے ! میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ قادیان میں ان کا گزارہ سوائے اپنی تنخواہ کے کسی اور چیز پر نہ تھا۔اور باوجود ایسے عسیر المعاش ہونے کے انہوں نے کسی امانت کی ادائیگی میں کبھی ایک لمحہ کا توقف بھی نہیں کیا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ان کی امانت سے۔۲۰۰ روپے چوری ہو گئے اس پر وہ بہت گھبرائے۔گھبراہٹ کی کچھ وجہ تو ی تھی کہ وہ ایک غریب آدمی تھے ان کو خیال تھا کہ میں اتنا نقصان کس طرح پورا کر سکوں گا۔لیکن