اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 205 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 205

204 آہستہ ایسی محبت میں تبدیل ہوئی کہ وہ مجھے اپنا ایک بیٹا تصور کرتے تھے۔منشی صاحب نے مجھے بتلایا تھا کہ گو انہوں نے ۱۹۰۰ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقاعدہ بیعت کی۔لیکن وہ اس سے بہت پہلے کئی سال تک سیالکوٹ سے آ کر موسم گرما کی رخصتیں قادیان میں گذارا کرتے تھے۔عہد بیعت کا نبھانا: منشی صاحب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے پھوپھی زاد بھائی اور ان کے برادر نسبتی تھے۔ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب نے منشی صاحب سے فرمایا کہ میاں ! تم ہر سال قادیان آتے ہو اور واپس سیالکوٹ جا کر غیر احمدیوں سے حضرت مسیح موعود کے دعاوی کی سچائی کے متعلق بحث بھی کرتے ہو لیکن خود بیعت نہیں کرتے ؟ منشی صاحب نے کہا کہ میری عادت ہے کہ جس بات کا اقرار کر لوں اس کو میں آخری دم تک نبھاتا ہوں، خواہ میری جان چلی جائے۔یہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد جو حضرت صاحب بیعت کے وقت لیتے ہیں میں اس کو نباہ نہیں سکوں گا اور جس عہد کو میں نباہ نہ سکوں وہ عہد میں کرنا نہیں چاہتا، خصوصاً اس شخص کے ہاتھ پر جو خدا کا مسیح اور مہدی ہے لیکن آخر 1900ء میں منشی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔پھر جس طرح انہوں نے اپنی انتہائی کوشش سے بیعت کے اس عہد کو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا نباہا اس کو وہ لوگ ہی جانتے ہیں جومنشی صاحب کے حالات زندگی سے اچھی طرح واقف تھے اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ جب میں بیعت کر کے واپس سیالکوٹ گیا تو یکدم میں نے اپنی ساری لغو عادات چھوڑ دیں۔یعنی تاش کھیلنا، بازار میں بیٹھ کر گئیں ہانکنا اور نماز اور تہجد با قاعدہ شروع کر دی۔میرے حالات میں اس غیر معمولی تغیر کو دفعتہ دیکھ کر سیالکوٹ کے لوگ بہت حیران ہوئے۔بے مثال تہجد گذاری: حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت کرنے والے سے یہ اقرار بھی لیتے تھے کہ وہ با قاعدہ پانچ وقتہ نماز اور حتی الوسع نماز تہجد بھی ادا کرے گا۔میں اپنے کئی سالوں کے مشاہدہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ حضرت منشی صاحب تہجد کی نماز ایسی ہی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے جیسی