اصحاب احمد (جلد 1) — Page 174
172 بعض قوانین کی خلاف ورزی ہو جانے پر آپ اپنے نہایت ہی عزیز دوستوں کو بھی جرمانہ کرتے اور کہتے کہ قانون کا اقتضاء یہی ہے ورنہ دوسرے لوگ بھی قانون شکنی پر اتر آئیں گے۔اگر اس فعل کی وجہ سے ذاتی تعلقات پر کوئی اثر پڑتا تو اپنے دوستوں کی طرف سے ہر جانے یا جرمانے اپنی جیب سے بخوشی ادا کرنے کو تیار رہتے۔آپ درمیانہ قد فربہ جسم گندم گوں تھے متانت آپ کے چہرہ سے ظاہر تھی۔میں بسا اوقات آپ سے ملاقات روحانی اطمینان کے حصول کے لئے کرتا تھا۔اور مجھے آپ کی ایمان افزا باتوں سے ہمیشہ ہی تسکین ہوتی تھی۔آپ کے اخلاق حسنہ خندہ پیشانی وغیرہ مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے سابق مبلغ جرمنی و انگلستان حال مقیم لاہور فرماتے ہیں: ملک مولا بخش صاحب نے مجھے بتلایا تھا کہ انہوں نے ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اس طرح گویا پوری نصف صدی انہوں نے احمدیت میں گذاری۔گذشتہ ۱۳ ۱۴ سال سے جب وہ ہجرت کر کے قادیان میں آ کر محلہ دارالفضل میں اپنا مکان بنا کر آباد ہو گئے تھے میرے ان کے ساتھ گہرے تعلقات تھے مجھے وہ اپنا حقیقی چھوٹا بھائی سمجھتے تھے اور خواہ کتنی بار دن میں میں اُن سے ملوں وہ نہایت محبت اور خوشی سے ملتے تھے۔میرے ساتھ تو اُن کے خاص محبت کے تعلقات تھے ہی لیکن عام طور پر بھی ملک صاحب ہر ملنے والے سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔یوں بھی وہ ہر وقت خوش رہتے تھے۔میں نے ان کو بہت کم غمگین دیکھا ہے۔وہ لا خوف عـلـيـهـم ولا هم يحزنون کی زنده تصویر تھے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ پر کامل یقین تھا اور بندوں سے ڈرتے نہیں تھے اس لئے خوف و ہراس اُن کے پاس تک نہ پھٹکتا تھا۔عدم تعصب۔اسلام دوستی کی وجہ سے دنیوی نقصان : ملک صاحب نے اپنی زندگی جوڈیشل محکمہ میں ملازمت سے شروع کی اور اسی محکمہ میں کلرک آف دی کورٹ کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے انہوں نے مجھے بتلایا کہ کئی لوگ جوان سے جونیئر تھے سب حج ہو کر ریٹائر ہوئے۔لیکن ان کی ترقی سر شادی لال چیف جج پنجاب ہائی کورٹ کے قومی تعصب کی قربان گاہ کے بھینٹ چڑھ گئی۔سرشادی لال ایک نہایت متعصب ہندو تھا وہ مسلمانوں کا سخت مخالف تھا۔اس کو خیال تھا کہ ملک مولا بخش صاحب ایک لائق اور متعصب مسلمان ہیں۔اگر یہ بڑے عہدے پر پہنچ گئے اور ج ہو گئے تو اس سے