اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 175 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 175

173 مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا اور ہندوؤں کو ان کے ہاتھوں نقصان اٹھا نا پڑیگا۔سر شادی لال کا ملک صاحب کے متعلق یہ خیال بے بنیاد تھا۔ملک صاحب بے شک ایک غیرت مند مسلمان ضرور تھے کیونکہ ہر سچا احمدی غیرت مند مسلمان ہوتا ہے اور احمدیت ہمیں یہی سکھلاتی ہے لیکن وہ متعصب نہ تھے ان کا معیار عدل وانصاف اتنا بلند تھا کہ جانتے ہوئے انہوں نے کبھی کسی انسان سے بے انصافی نہ کی۔ملک صاحب اپنی قوم سے محبت اور ہندو قوم سے تعصب کے فرق کو خوب جانتے تھے۔یہ درست ہے کہ جہاں انہوں نے کبھی کسی ہندو یا سکھ کے ساتھ بوجہ اس کے ہندو یا سکھ ہونے کے بے انصافی نہ کی وہاں انہوں نے کسی مسلمان کے جائز حق کو بھی جہاں تک اُن کا بس چلا اس وجہ سے ضائع نہ ہونے دیا کہ ان کا اپنا اعلیٰ افسر غیر مسلم تھا اور ایک مسلمان کے حق کی حفاظت کرتے وقت وہ ان سے ناراض ہو جائے گا۔سر شادی لال کمزور مسلمان افسروں کے ہاتھوں مسلمانوں کے حقوق کا خون کرواتا تھا۔ملک صاحب مرحوم اس قسم کے مسلمان نہ تھے۔اس لئے وہ ہمیشہ ملک صاحب کے مخالف رہا اور جب کبھی جی کے لئے ان کی سفارش ہوتی تو وہ اس کو رد کر دیتا لیکن جہاں شادی لال صاحب کا یہ رویہ تھا ایک دوسرا ہائی کورٹ کا انگریز جج مسٹر سکیمپ ملک صاحب کی جرات کی وجہ سے اُن کا بے حد مداح تھا۔ایک دفعہ مسٹرسکیمپ کو جب وہ گورداسپور میں سیشن جج تھا ملک صاحب نے ایک غلط فیصلہ کرتے ہوئے روکا تھا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ملک صاحب کا مداح رہا۔خوشامد سے دلی نفرت اور حق کہنے میں جرات : ملک صاحب کی دوسری خوبی جو وہ بھی ان کی ترقی کے راستہ میں روکاوٹ بنی رہی ان کی خوشامد سے دلی نفرت تھی۔اپنے افسروں کی خوشامد کرنا تو درکنار وہ کبھی ان کے سامنے سچی بات کہنے سے بھی نہ رکھتے تھے۔خوشامد سے نفرت اور حق بات کہنے میں بے باکی ملک صاحب کے کیرکٹر کی امتیازی خصوصیت تھی۔ملک صاحب بڑے ذہین اور علم دوست انسان ت كلمة الحق ضالة المومن اخذ بها حيث وجد ہا پر ان کا پورا عمل تھا چھوٹے بچوں سے بھی وہ اچھی بات سُن کر اس پر عمل کرتے تھے۔اگر کسی دوست سے کوئی علمی نکتہ سُن لیتے تھے تو بار بار خوشی کے ساتھ اس کا ذکر کرتے اور اُس دوست کی تعریف