اصحاب احمد (جلد 1) — Page 245
244 ہیں۔کیونکہ یہ ہمارے رسول کی تخت گاہ میں بسنے والے جانور ہیں۔اگر ہو سکے تو ہمیں یہاں کے چھوٹے بڑے جانور ایک ایک ہندوستان لے جانے چاہئیں۔میں جب کبھی طائف کے انار موسمبی، میٹھے، لیمو چھوٹے چھوٹے کیلئے لے جاتا اور کہتا کہ یہ میوے اس مقدس زمین کے ہیں تو اس کو بطور نعمت الہی کے خیال فرماتے اور شکریہ ادا کرتے۔ایک دن فرمانے لگے آپ کوشش کریں کہ عبد الحئی اور اُس کی چھوٹی والدہ بھی حج کو آئیں اسی طرح میری اولاد کو بھی حج کی توفیق ملے۔وہاں آپ کے اہلبیت نے اس امر کا اظہار کیا کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ میں یہاں ٹھہروں تو آپ نے ہنس کے فرمایا کہ میں بھی آپ کے ساتھ یہیں رہوں گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بیوی تو ہندوستان واپس آگئیں اور سیٹھ صاحب ہمیشہ کے لئے مدینہ منورہ میں رہ پڑے۔مکہ مکرمہ میں اور سفر کی دوسری جگہوں میں آپ کثرت سے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کو یاد کرتے وہاں سے دعا کا خط لکھواتے خود کثرت سے تہجد نوافل اور دیگر نمازوں میں اسلام کی ترقی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت و درازی عمر اور جماعت یاد گیر اور دوسری جماعتوں اور دوستوں کے لئے خاص طور پر دعائیں کرتے، کبھی خود بآواز بلند ہم کو انہی دعاؤں میں شامل کر لیتے کبھی مجھے کہتے کہ آپ بآواز بلند دعا کریں۔دن اور رات میں اکثر قرآن پڑھتے درود اور دیگر دعاؤں کا التزام فرماتے۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مختلف جگہ کا پانی تبرکات کے رنگ میں سیٹھ صاحب کو ہم پلاتے رہے۔ایک دفعہ جب میں بیئر بھر انہ کا پانی لایا تو فرمانے لگے کہ آپ آب زمزم کے علاوہ اس پانی کو بھی ہندوستان لے جائیں اور بچوں کو پلائیں۔جو چیز آپ کو میں لا کر دیتا اُس کو بڑی خوشی سے استعمال کرتے اور عاجز کو دعا دیتے۔دشمن کی طرف سے مخالفت : دورانِ سفر جہاز میں ہماری زیادہ مخالفت ہوئی۔ابتداء اس قسم کے فتنہ کھڑے کرنے کی ہمارے بعض ساتھی غیر احمدیوں کی طرف سے ہوئی جس میں ہمارے قافلہ کے صدر نے جو ہمارے سلسلہ کا شدید دشمن تھا زیادہ حصہ لیا اور ان لوگوں کو مختلف جھوٹی باتیں بتا کر اور اشتعال دلا کر ہمارے خلاف اندرونی طور پر ورغلاتا رہا۔چنانچہ جدہ میں ہم سے پانچ ہزار روپیہ نقد لینے یا گرفتار کرائے جانے کی دھمکی کا منصو بہ باندھ کر ہمارے سفر کے ایک ساتھی