اصحاب احمد (جلد 1) — Page 244
243 شہری کو لے کر دوڑتے اور آہستہ چلتے دعائیں کرتے جاتے ہیں اور سیٹھ صاحب بھی دعائیں کرتے جاتے تھے۔اس طرح دوسرے تیسرے دن کبھی ایک روز بعد کبھی ہر روز آپ خانہ کعبہ جاتے۔کبھی ظہر سے پہلے آ جاتے۔کبھی عصر کے بعد جاتے شام کے پہلے آ جاتے اس طرح کامل اطمینان کے ساتھ نفل پڑھتے، کبھی بآواز بلند ہمیں ساتھ لے کر دعائیں کرتے کبھی چپ چاپ دعائیں کرتے۔اکثر مرتبہ دیکھا گیا کہ آپ دیر تک خانہ کعبہ کو دیکھتے رہتے۔اس طرح ہمیں بلا کسی جدو جہد کے اپنی نمازیں کامل اطمینان کے ساتھ علیحدہ مسجد حرام میں پڑھنے کی توفیق ملتی رہی۔مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ میں کوئی شخص یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کیوں جماعت سے علیحدہ نماز پڑھتے ہیں۔کیونکہ وہاں کسی کو اس بات کی فکر ہی نہیں ہے کہ آپ کون ہیں اور کس رنگ میں ہیں۔اس طرح ایک مہینہ سے زائد مکہ مکرمہ میں رہے۔اچھی صحت کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے سیٹھ صاحب کو منی۔مزدلفہ۔عرفات میں حاضری اور کامل حج کا موقعہ عطا فرمایا۔قیام مکہ مکرمہ میں آپ سارا ہی دن علاوہ نماز اور دعا کے دین کی باتیں کرتے۔فرمایا کرتے تھے کہ میراج تو یہی ہے کہ خدا نے مجھے اس مقدس زمین میں پہنچا دیا۔یہ جگہ رباط حسین بی جہاں ہم ٹھہرے ہیں یہاں بھی حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے رہے ہیں۔اس لئے آپ کسی گھڑی کو بھی ضائع نہ کرتے۔اکثر دفعہ مجھ سے اور اپنی اہلیہ سے فرماتے کہ آپ ان لوگوں کو جو ہمارے ساتھ حج کے سفر میں ہیں یا راستہ میں ملتے رہتے ہیں تبلیغ احمدیت کیا کریں۔اور ہمارے سلسلہ کی کتابوں کے پڑھنے کے متعلق تحریک کریں۔بعض دفعہ جب سیٹھ صاحب سے کہا جاتا کہ یہاں اور مدینہ منورہ میں سلسلہ کی علانیہ تبلیغ کی حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو فرماتے اللہ تعالیٰ جلد وہ وقت لائے گا جب ہمارے لئے یہ سب مشکلات دور ہو جائیں گی۔خود آپ کا عمل پورے سفر میں ریل گاڑی جہاز موٹر یہی رہا کہ آپ کو جو شخص بھی ملتا اس کو آپ اپنی طرز پر کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی سلسلہ کی بات تبلیغ کے رنگ میں ارشاد فرماتے۔مقدس سرزمین سے محبت : ایک دن فرمانے لگے کہ اس مقام کے آدمی تو آدمی ہمیں جانور بھی پیارے لگتے