اصحاب احمد (جلد 1) — Page 246
245 حبیب صاحب معلم کو اپنا ہمنوا کرنا چاہا۔لیکن یہ معلم باوجود ہم سے اختلاف رکھنے کے نہایت ہی شریف اور ہمدرد انسان نکلا۔جس نے ہماری بہت مدد کی اور اس کا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور ہمیں اس سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔بعض دفعہ ان منصوبوں اور مخالفانہ حالات کو دیکھ کر میں سیٹھ صاحب رضی اللہ عنہ سے کہتا کہ آپ دعا فرما ئیں کہ کوئی فتنہ پیش نہ آئے اور ہمارا حج نہ رُک جائے۔بعض لوگ اس قسم کی ریشہ دوانیاں کر کے ہمارے متعلق مذہبی اعتقاد کے اختلاف کی بناء پر کچھ ایسی صورتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے حکومت پر یہ واضح کریں گویا قادیانی وہاں حج کو نہیں آتے بلکہ ان کے کچھ اور مقاصد ہیں وغیرہ۔تو آپ فرماتے کہ آپ چلتے چلے جائیں کوئی حج سے نہیں روکتا۔بعض احمقوں نے مکہ مکرمہ جیسی مقدس بستی میں بیٹھ کر ہمارے متعلق یہاں تک بکو اس کی کہ گویا قادیانی نعوذ با اللہ حجر اسود چرانے آتے ہیں۔اس موقعہ پر مجھے بہت ہنسی آئی اس مجلس میں میں ہنسی کو روک نہ سکا اور مجلس سے باہر چلا گیا۔پھر مجلس ختم ہونے کے بعد میں نے مکہ کے مقامی چیدہ چیدہ لوگوں کو سمجھایا کہ یہ خرافات ہیں میں بھی کٹر قادیانی ہوں۔آپ ہمارے عمل کو دیکھئے ہم کیا کرتے ہیں۔چنانچہ پھر ایک شخص نے ہماری مکہ مکرمہ سے واپسی پر کہا کہ واللہ آپ جیسی نمازیں آپ جیسی دعا ئیں اور کار خیر کرتے میں نے بہت کم لوگوں کو دیکھا ہے۔اُس نے ساتھ ساتھ یہ بھی بات کہی کہ یہ سب فتنہ ہندوستان سے آنے والے لوگ اٹھاتے ہیں۔ہم کو کیا معلوم تھا کہ آپ لوگ ایسے ہیں وہ ایک شریف آدمی تھا اُس نے اس کے بعد اس قسم کا ذکر ہی ترک کر دیا تھا۔نماز جمعہ بھی ہم تینوں اپنی قیام گاہ پر ہی ادا کرتے۔سیٹھ صاحب نے دوران سفر میں مدرسه صنعت و حرفت مدینہ منورہ وغیرہ پر ایک ہزار ریال سے زیادہ رقم تقسیم کی۔حج میں ہمارے ایک ہم سفر نواب چھتاری سابق وزیر اعظم حیدر آباد کے مرشد تاجی شاہ صاحب تھے جو ہمارے سلسلہ اور جماعت کے کاموں سے خوب واقف تھے۔انہوں نے ہماری بڑی عزت کی اور کئی جگہ سیٹھ صاحب کی خدمت کی کوئی شخص ہماری بلا وجہ مخالفت کرتا تو اس کو روکتے۔ساری مخالفت ہماری اس بات پر ہوتی کہ ہم علیحدہ نمازیں کیوں پڑھتے ہیں۔اس پر بحث کا سلسلہ چل پڑتا۔تاجی شاہ صاحب فرماتے تھے کہ میرے مرید کثرت سے ساندھن