اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 194 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 194

193 ساتھی بن کر انہیں سمجھاؤں، شاید مان جائیں اور پرسوں لاہور میں جلسہ ہے۔میں وہاں جارہا ہوں اور انہیں سمجھاؤں گا۔منشی صاحب بھی ساتھ لاہور پہنچے۔اس جلسہ میں میر صاحب کو پیغامیوں نے جماعت سیالکوٹ کا امیر بنایا۔لیکن پھر میر صاحب کو ملنے کا موقعہ نہ ملا اور منشی صاحب قادیان آگئے اور میر صاحب سے اس موضوع پر خط و کتابت کرتے رہے۔آپ کے ایک خط کے جواب میں میر صاحب نے ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ میں نے حضرت میاں صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہتعالیٰ ) کو ایک خط لکھا ہے۔جس کا جواب آنے پر میں بتاؤں گا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ان ایام میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی مذکورہ چوبارہ میں ہر روز بیٹھا کرتے تھے اور احباب حضور کے پاس آکر بیٹھتے۔منشی صاحب بھی ہر روز حضور کے پاس آتے۔منشی صاحب کو یہ خط وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ چٹھی رساں نے دیا۔اس خط کے آخر پر میر صاحب نے دستخط کر کے نیچے باریک قلم سے لکھا ہوا تھا کہ میں نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے۔گویا خط لکھتے وقت بیعت کا خیال نہ تھا لیکن خط ختم کر کے دستخط کر کے لکھا کہ میں نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے۔اسی ڈاک میں حضور کو بھی میر صاحب کا خط آیا۔اور حضور پڑھتے ہی اُٹھ کر اندرون خانہ تشریف لے گئے اور واپس آکر فرمایا میر صاحب کا بیعت کا خط آیا ہے۔منشی صاحب نے بھی اپنا خط دکھایا۔حضور بہت خوش تھے اور منشی صاحب کا خیال ہے کہ حضور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔اس کے بعد جماعت سیالکوٹ کے ایک حصہ نے میر صاحب کی بیعت کی وجہ سے بیعت کر لی۔خاکسار (مؤلف) نے منشی صاحب کی زندگی میں مکرم ملک غلام فرید احمد صاحب ایم۔اے سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی اس مجلس میں موجود تھا۔حضور ڈاک دیکھتے دیکھتے اندر تشریف لے گئے پندرہ منٹ کے بعد تشریف لائے۔بہت خوش تھے فرمایا کہ میر حامد شاہ صاحب کا خط آ گیا ہے اور میں سجدہ شکر کرنے کیلئے گیا تھا۔مجھے بہت خیال تھا کہ میر صاحب بہت مخلص ہیں۔یہ کہاں پھنس گئے ہیں اور خواہش تھی کہ انہیں قبول حق کی توفیق مل جائے۔نیز ملک صاحب نے بتایا کہ میں نے منشی محمد اسماعیل صاحب والا خط بھی دیکھا تھا۔جیسا منشی صاحب بیان کرتے ہیں اسی طرح میر صاحب کا خط تھا یعنی خط کے آخر پر دستخط تھے اور اس کے بعد پس نوشتہ کے طور پر بیعت کا خط لکھ دینے کا ذکر مرقوم تھا۔* منشی صاحب مئی یا جون ۱۹۱۴ ء میں سیالکوٹ جانے کا ذکر کرتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ عرصہ دراز گزرنے کی وجہ سے مہینہ کے متعلق آپ کو سہو ہو گیا۔کیونکہ چوہدری نصر اللہ صاحب کی بیعت ۲۸ مارچ سے قبل کی ہے چنانچہ الحکم جلد ۱۸ نمبر ۵ ( صفحه ۶/۷ کالم ۳) بابت ۲۸ مارچ ۱۹۱۸ء میں مرقوم ہے۔سیالکوٹ شہر سے بھی بیعت کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔”چوہدری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈر نے بیعت کر لی۔اور میر حامد شاہ صاحب کی بیعت کا خط بھی الفضل جلدا نمبر ۴۳ ج بابت ۱۸اپریل ۱۹۱۴ء میں درج ہے۔نیز لاہور کا شوری جس کا ذکر منشی صاحب نے کیا ہے (باقی اگلے صفحہ پر ) ย