اصحاب احمد (جلد 1) — Page 195
194 ضلع سیالکوٹ کی احمدی آبادی کی مردم شماری: 19ء میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے مشورہ سے محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان مکرم مولوی عبدالغنی خاں صاحب نے منشی صاحب کو ضلع سیالکوٹ کے احمدیوں کی مردم شماری کیلئے کہا۔آپ نے سفر خرچ کا اندازہ دس روپے بتایا تھا لیکن سیکرٹری صدرانجمن احمد یہ نواب محمدعلی خان صاحب رضی اللہ نے کہا کہ دوسو روپیہ دیا جائے، منشی صاحب نے سفر نہیں کئے اس لئے انہیں اندازہ نہیں۔مولوی صاحب نے اصرار کیا اور بالآخر پچاس روپے لے جانے کو کہا۔آپ نے تمیں روپے لئے۔اڑھائی ماہ میں سارے ضلع کی مردم شماری کی اور صرف نو روپے پونے تین آنے صرف کئے اور باقی رقم واپس کر دی۔آپ نے یہ اصول بنالیا تھا کہ آپ کھانا تیار نہ کراتے تھے اور جو کچھ تیار موجود ہوتا کھا لیتے جس گاؤں میں موجود نہ ہوتا وہاں نہ کھاتے اس سفر میں آپ کے ذریعہ کئی لوگوں نے احمدیت قبول کی۔علاقہ ملکانہ میں تبلیغ: ارتداد ملکانہ کے وقت ۱۹۲۳ء میں آپ کو علاقہ اجمیر میں بھیجا گیا۔موضع دوکھیڑہ تحصیل بیاور میں متعین ہوئے۔مکرم ماسٹر نور الہی صاحب ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے یہ معلوم کر کے کہ وہاں ہندومسلمان ایک دوسرے کولڑ کیاں نکاح میں دیتے ہیں بعض لوگوں کو اس سے منع کیا۔ماسٹر صاحب کسی اور جگہ متعین ہو کر چلے گئے اور لوگ منشی صاحب کے مخالف ہو گئے وہاں یہ طریق تھا کہ ہندو اپنی مسلمان بہو کو جلاتے اور مسلمان اپنی ہندو بہوکو دفناتے اگر مسلمان کی بہو اپنے میکے آ کر فوت ہوتی تب بھی دفنائی جاتی اور اگر ہندو کی مسلمان بہو اپنے میکے میں وفات پاتی تب بھی جلائی جاتی۔پہلے تو آپ کا کھانا پکانے پر کوئی راضی نہ ہوا لیکن پھر ایک مسلمان بڑھئی نے خود بخود ہی منظور کر لیا۔پہلے دو تین دن آپ کو پتھریلی زمین پر سونا پڑا لیکن پھر کوئی شخص خود ہی چار پائی دے گیا۔ایک مجلس میں آپ باتیں سنا رہے تھے تو ایک ہندو نے کہا کہ یہ پٹیل ( نمبر دار ) میرا بھائی ہے۔یہ گائے کا گوشت کھاتا ہے اور میں سو رکھا تا ہوں اور ہم ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے ہیں۔میں اسے لڑکی دیتا ہوں اور یہ مجھے لڑکی دیتا ہے۔میاں صاحب! آپ کیا کرتے ہیں، یہاں آپ کی بات کوئی نہیں سنے گا۔لوگ ایک دوسرے کو کہتے کہ یہ ہمیں بڑوں کی ریت سے پھیر نے آیا ہے۔ایک شخص کی ایک آنکھ دکھتی تھی آپ نے اس کا علاج کیا اسے آرام بقیه حاشیه : ۲۴ مارچ ۱۹۱۷ء کو ہوا تھا۔اس میں میر صاحب کو بھی ایک خلیفہ مقرر کیا گیا تھا۔( بحوالہ الفضل جلد انمبر۴۳ صفحہ ۲ کالم ۳ صفحه ۳ کالم ۳ بابت ۲۸ مارچ ۱۹۱۴ء - سونشی صاحب لاز ما ۲۴ مارچ سے قبل سیالکوٹ گئے ہوں گے۔(مؤلف)