اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 56 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 56

56 باہر بھیجا جاوے تو دس دن کے بعد تو ضرور کہہ دینگے کہ ہمارا گھر خالی پڑا ہے۔صحابہ کے زمانہ پر اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابتدا سے فیصلہ کر لیا ہو ا تھا کہ اگر خدا کی راہ میں جان دینی پڑ جائے تو پھر دے دیں گے۔انہوں نے تو خدا کی راہ میں مرنے کو قبول کیا ہوا تھا۔جتنے صحابہ جنگوں میں جاتے تھے کچھ تو شہید ہو جاتے تھے اور کچھ واپس آ جاتے تھے۔اور جو شہید ہو جاتے تھے ان کے اقربا پھر ان سے خوش ہوتے تھے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں جان دی۔اور جو بچے آتے تھے وہ اس انتظار میں رہتے تھے اور شاکی رہتے کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی، جو ہم جنگ میں شہید نہیں ہوئے۔اور وہ اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے تھے اور خدا کے لئے جان دینے کو تیار رہتے تھے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ ن مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مِّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يُنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِ يُلاه زبانی دعوے تو خواہ آسمان تک پہنچ جاویں، جب تک عملی طور پر کر کے نہ دکھاؤ گے کچھ نہیں بنے گا۔مومن آدمی کا سب ہم و غم خدا کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا۔اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے۔اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم وغم سب دنیا کے ہی لئے ہوتے ہیں ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ زنا۔ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔66 فرمایا۔” مبارک احمد کی وفات پر میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ خدا کی مرضی کو میں نے اپنے ارادوں پر قبول کر لیا ہے۔اور یہ اس الہام کے مطابق ہے کہ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔فرمایا۔پچیس برس شادی کو ہوئے۔اس عرصہ میں انہوں نے کوئی واقعہ ایسا نہیں دیکھا جیسا اب دیکھا۔میں نے انہیں کہا تھا کہ ایسے محسن اور آقا نے جو ہمیں آرام پر آرام دیتا رہا، اگر ایک اپنی مرضی بھی کی تو بڑی خوشی کی بات ہے۔فرمایا ہم نے تو اپنی اولا دو غیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا کا مال ہیں۔جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہو ا کرتا۔اس