اصحاب احمد (جلد 1) — Page 57
57 رسالہ تشخیذ الاذہان اس بارہ میں رقمطراز ہے: برادرم مبارک احمد کی وفات پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ اتنی مدت سے ہم پر رحم کرتا آیا ہے۔ہر طرح سے ہماری خواہش کے مطابق کام کرتا آیا ہے۔اور اس نے اٹھارہ برس کے عرصہ میں ہم کو طرح طرح کی خوشیاں پہنچائیں اور انعام و اکرام کئے گویا اپنی رضاء پر ہماری رضاء کو مقدم کر لیا۔پھر اگر ایک دفعہ اس نے اپنی مرضی ہم کو منوانی چاہی تو کونسی بڑی بات ہے۔اگر ہم باوجود اس کے اس قدر احسانات کے پھر بھی جزع فزع اور واویلا کریں تو ہمارے جیسا احسان فراموش کوئی نہ ہوگا۔اور پھر اس نے تو پہلے ہی اطلاع دیدی تھی کہ یہ جلد فوت 600 ہو جائے گا جیسا کہ تریاق القلوب میں لکھا ہے۔اور دوسرے یہ کہ دوستی تو اسی کو کہتے ہیں کہ کچھ دوست کی باتیں مانی جاویں اور کچھ اس کو منوائی جاویں۔یہ تو دوستی نہیں کہ اپنی ہی اپنی منواتے جانا اور جب دوست کی بات ماننے کا وقت آئے تو بُرا منانا۔پس جبکہ ہم نے خدا تعالیٰ سے تعلق کیا ہے تو چاہئے کہ کچھ اس کی مانیں اور کچھ اس سے منوائیں۔۳۲ صاحبزادہ صاحب مرحوم کی بیوہ کے متعلق حضور کی خواہش: صاحبزادہ صاحب مرحوم کی بیوہ سے ۱۹۲۱ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا نکاح ہوا۔خطبہ نکاح حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے پڑھا، اس میں آپ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود نے یہی رشتہ جو ہمارے مکرم معظم ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی چھوٹی صاحبزادی کا ہے۔اپنے چھوٹے صاحبزادہ مبارک احمد سے کیا تھا۔وہ فوت ہو گیا جیسا کہ اس کے متعلق الہام تھا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے یہ خواہش ظاہر کی اور طبعی طور پر ہونی چاہئے تھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انبیاء کی طبیعت نہایت ہی شکر گذار بنائی ہوتی ہے۔میں نے خود بلا کسی واسطہ کے حضرت مسیح موعود سے سنا۔آپ نے فرمایا۔مجھے یاد نہیں کسی نے ایک پیسہ بھی مجھے دیا ہوا اور میں نے اس کے لئے دعا نہ کی ہو۔کیا ہی شان ہے وہ جس کے متعلق خدا کہتا ہے کہ اَنتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِی۔اس کو کوئی ایک پیسہ بھی دیتا ہے تو وہ شکر گذاری کے طور پر اس کے لئے دعا کرتا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ نبی کبھی اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رہنے دیتے، بلکہ دوسروں پر اپنا احسان رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی اس بات کو