اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 55 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 55

55 کرتے ہیں کہ اس کا خاوند اور بیٹا اور بھائی جنگ میں شہید ہو گئے۔جب لوگ جنگ سے واپس ( ہوئے ) تو انہوں نے اس عورت کو کہا کہ تیرا خاوند بیٹا اور بھائی تو لڑائی میں مارے گئے۔تو اس عورت نے جواب دیا کہ مجھے صرف اتنا بتادو کہ پیغمبر خدا صلعم تو صحیح سلامت زندہ بچ کر آگئے یا نہیں۔تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی عورتوں کا بھی کتنا بڑا ایمان تھا۔فرمایا کل والا الہام کہ خدا خوش ہو گیا ہم نے اپنی بیوی کو سُنایا تو اس نے سُن کر کہا کہ مجھے اس الہام سے اتنی خوشی ہوئی ہے کہ اگر دو ہزار مبارک احمد بھی مر جاتا تو میں پرواہ نہ کرتی۔فرمایا یہ اس الہام کی بناء پر ہے کہ میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں اور پھر چار دفعہ یہ الہام بھی ہوا تھا۔اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهَبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیراً۔اور پھر ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔اور پھر ”لائف آف پین، یعنی تلخ زندگی۔یکجائی طور پر نظر کرنے سے ایک دشمن بھی مان جائے گا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے خدائی وعدوں کے مطابق ہوا ہے۔اور پھر یہ الہام بھی ہوا تھا۔اإِنِّي مَعَ اللَّهِ فِي كُلِّ حَالٍ “اب جتلاؤ ایسی صاف بات سے انکار کس طرح ہو سکتا ہے؟ اصل میں ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔اگر انسان عمدہ عمدہ کھانے، گوشت پلا ؤ اور طرح طرح کے آرام اور راحت میں زندگی بسر کر کے خدا کو ملنے کی خواہش کرے تو یہ محال ہے۔بڑے بڑے زخموں اور سخت سے سخت ابتلاؤں کے بغیر انسان خدا کو مل ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔غرض بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر توڑنے والا ہو۔ہمارے نبی کریم صلعم کا سب سے بڑھ کر مشکل امتحان ہوا تھا۔جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزُرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - جب سخت ابتلاء آ ئیں اور انسان خدا کے لئے صبر کرئے تو پھر وہ ابتلاء فرشتوں سے جا ملاتے ہیں۔انبیاء اسی واسطے زیادہ محبوب ہوتے ہیں کہ ان پر بڑے بڑے سخت ابتلاء آتے ہیں اور وہ خود ہی ان کو خدا سے جاملاتے ہیں۔امام حسین پر بھی ابتلاء آئے اور سب صحابہ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کہ وہ سخت سے سخت امتحان میں ڈالے گئے۔گوشت اور پلاؤ کھانے سے اور آرام سے بیٹھ کر تسبیح پھیرتے رہنے سے خدا کا ملنا محال ہے۔صحابہ کی تسبیح تو تلوار تھی۔اگر آج کل کے لوگوں کو کسی جگہ اشاعت اسلام کے واسطے