اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 4 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 4

4 نے فرمایا تھا۔یا جو ممتاز گروہ صحابہ " یعنی ۳۱۳ میں شمار ہوتے تھے۔ایسے صحابہ جن کے حالات ہمیشہ کے لئے مستوررہ گئے ہیں۔سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔گو تقسیم ملک کے بعد کے حالات بہت مختلف ہو گئے اور بہت سے بزرگ صحابہؓ مثلاً سیّد عبداللطیف صاحب شہید۔مولوی عبد الکریم صاحب۔نواب محمد علی خاں صاحب۔شہزادہ عبدالمجید صاحب مجاہد ایران۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مولوی شیر علی صاحب۔پیر منظور محمد صاحب وغیر ہم رضی اللہ عنہم جن کے کافی حد تک مکمل حالات میں نے سالہا سال کی محنت سے اُن سے یا اُن کے اقارب اور دوسرے صحابہ سے جمع کئے تھے۔بفضلہ تعالیٰ فسادات کی نذر ہونے سے بچ گئے لیکن چونکہ وہ حالات بروقت قادیان میں نہیں پہنچ سکے۔اس لئے ان میں سے کئی ایک کے حالات بھی جلد اول میں شائع نہیں کر اسکا۔میں کچھ عرصہ اور انتظار کرتا لیکن دو امور میرے لئے اس تحریک کا باعث ہوئے کہ امسال ہی کتاب کی پہلی جلد شائع کر دوں۔ایک تو یہ کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا تھا کہ جو کچھ میسر ہو اُسے جلدی سے شائع کردو۔کامل ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس خیال میں نہ رہو کہ مکمل ہوں گے تب شائع کروں گا۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ جو کچھ معلومات حاصل ہوں شائع کر کے محفوظ کر دی جائیں۔دوسری تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ مجھے تجربہ ہوا ہے کہ صحابہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھے بارہا عام اور رجسٹری خطوط بھیجنے پڑے۔لیکن مجھے بہت سے احباب کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوئے۔الفضل میں اعلان کروائے لیکن شاید ان میں جاذبیت نہ تھی۔صرف دو دوستوں نے بعض بزرگوں کے حالات تحریر کر کے بھیجے۔سو میں نے ارادہ کیا کہ بعونہ و توفیقہ اس جلسہ سالانہ پر جلد اول شائع کر دوں تا دوستوں کو تحریک ہو کہ اپنے بزرگوں کے حالات قلمبند کریں اور اس طرح ایک قیمتی خزانہ محفوظ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود کے متعدد صحابہ کا تذکرہ الحکم اور بدر کے فائلوں میں محفوظ ہے۔اور بلا شبہ وہ حالات نہایت قابل قدر ہیں اور میں نے اُن سے پورا فائدہ اٹھایا ہے۔لیکن اس سلسلہ میں مستقل کتابوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہے۔اس موضوع پر میرے علم میں تذکرۃ الشہادتین کے علاوہ صرف ذیل کی کتب شائع ہوئی ہیں۔اس فہرست سے ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے اس اہم کام کی طرف کتنی توجہ دی ہے :۔ا۔واقعہ ناگزیر (سائز ۲۶×۲۰ صفحات (۳۶) مطبوعہ نومبر ۱۸۹۸ء مطبع انوار احمد یہ قادیان با اهتمام شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی (مالک مطبع) یہ ایک مختصر سی کتاب سید فصیلت علی شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات میں سید حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے شائع کی۔سید فصیلت علی شاہ صاحب کی وفات ۵ ستمبر ۱۸۹۸ء کو واقع ہوئی۔آپ اپنے مولد موضع مالو مجھے علاقہ پسرور ضلع سیالکوٹ میں اپنے بزرگان کی درگاہ میں مدفون ہوئے۔آپ