اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 3 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 3

3 براہ راست فیضان سے متموج ہوئے وہی احساسات و جذبات ہمارے قلوب میں بھی موجود ہونے چاہئیں اور ہمیں اس سنت اللہ سے ہمیشہ خائف رہنا چاہئے کہ اگر ہم صحابہ کے اچھے جانشین نہ بنے تو اللہ تعالیٰ کسی اور قوم کو ان کا قائمقام کھڑا کر سکتا ہے۔پس بہت ہی مقام خوف ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ کم احسان ہے کہ اس نے ہمارے ملک میں روحانیت کا چشمہ جاری کیا اور ہمارے ملک کو مرکز بننے کی سعادت کے لئے منتخب کر لیا۔سواس نعمت کی قدر کرنی چاہئے تا کوئی اور قوم اس مقام ارفع کو اپنی زیادہ کوشش اور ہمت سے حاصل نہ کرلے اور ہم دون ہمتی اور غفلت سے اس انعام سے محروم نہ ہو جائیں۔تیسرے ہم ان بزرگوں کے سوانح حیات محفوظ کرنے میں قاصر رہے ہیں اور بہت سا قیمتی حصہ ضائع ہو چکا ہے۔اب ہمیں حتی الامکان اس کی تلافی کرنی چاہئے اس وقت جو کچھ شائع ہوگا۔اگر اُس میں کوئی غلطی ہوگی تو موجودہ صحابہ سے اس کی تصحیح کی امید ہوسکتی ہے۔لیکن یہ فائدہ بعد میں حاصل نہ ہو سکے گا۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ صحابہ مسیح موعود کے حالات حیطہ تحریر میں لانے میں بہت بڑی کمی رہ گئی ہے۔بطور مثال عرض کرتا ہوں کہ مولوی رحیم اللہ صاحب رضی اللہ عنہ ایسے بزرگوں میں سے تھے۔جو جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شریک ہوئے۔پھر وہ تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے۔لیکن اُن کے سوانح لکھنے کے لئے جہاں تک میرے ذرائع اور کوشش کا تعلق ہے۔مجھے بہت ہی کم معلومات حاصل ہوسکیں۔ہمارے پرانے بزرگوں میں سے جو اس وقت تک زندہ ہیں۔مکرم بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی درویش اور مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش نے باوجود خود ۳۱۳۰ میں سے ہونے کے فرمایا کہ ہمیں مولوی صاحب موصوف کا علم تک نہیں۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب مقیم ربوہ نے تحریر فرمایا کہ مجھے مولوی صاحب کے متعلق کچھ بھی علم نہیں۔اسی طرح ۳۱۳ صحابہ میں سے کئی ایک کا حال ہے۔ایک صحابی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی فوت ہوکر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔اُن کے حالات کا مجھے بسیار جستجو کے باوجود کچھ پتہ نہ لگ سکا۔انہی کے گاؤں کے ایک بزرگ سے میں نے دریافت کیا۔فرمانے لگے کہ میں اس دوست کو جانتا تک نہیں۔میں نے عرض کی کہ مرحوم کی وصیت پر آپ کی شہادت درج ہے۔فرمانے لگے مجھے اس نام کا اپنے گاؤں کا کوئی احمدی یاد نہیں پڑتا۔احباب غور فرمائیں کہ جو بزرگ قدیم ترین صحابہ میں سے تھے اور بعثت سے قبل کے حضور کے پاس آنے والوں میں سے تھے اور جس شخص کے حالات میں نے اُن سے پوچھے وہ انہی کے گاؤں کا باشندہ تھا اور اس کی وصیت پر ان کی گواہی موجود ہے۔جب ان کو اس شخص کا بھی کچھ علم نہیں تو اور کس سے حالات معلوم ہو سکتے ہیں۔یہ تو ایسے صحابہ کا حال ہے جو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اور جن کے نیک سوانح کا ان کے کتبوں پر لکھنے کا ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام