اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 229 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 229

228 اور ریاست کا قدیمی طریق تھا کہ جہاں وہ جائیں اُمراء نذرانہ پیش کریں۔کلکٹر کے کہنے پر سیٹھ صاحب بھی پہنچے۔پہلے تو کلکٹر اس بات پر حیران ہوا کہ آپ بالکل ہی سادہ لباس میں جس کے آپ عادی تھے چلے آئے ہیں اور یہ لباس دربار کے شایان شان نہ تھا۔وقت تنگ تھا اس لئے وہ کچھ کہہ نہ سکا۔البتہ کورنش ( فرشی سلام) بجالانے کے آداب بتا تا رہا۔آپ خاموش سنا کئے۔کلکٹر نے اپنے پاس سے رومال بھی دیا اور بتایا کہ یوں رومال پر نذرانہ رکھ کر پیش کریں۔ہوا یہ کہ جب نذرانہ گزارنے کی آپ کی باری آئی تو آپ نے اسلامی طریق پر السلام علیکم کہا اور پوچھا کہ آپ کا مزاج کیسا ہے۔سفر کیسے طے ہوا؟ یہ دیکھ کر کلکٹر کا برا حال ہوا۔کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔کورنش بجالانا تو درکنار یہ کیا غضب ڈھایا کہ السلام علیکم کہہ دیا اور مزاج پوچھ لیا۔جس کی جرات ریاست کا بڑے سے بڑا آدمی بھی نہیں کر سکتا تھا۔خیر نظام نے جواب دیا۔سیٹھ صاحب نے بطور نذرانہ چالیس اشرفیاں پیش کیں۔جو انہوں نے لے لیں۔آپ نے نظام کے دریافت کرنے پر بتایا کہ میرا بیٹریوں کا کارخانہ ہے۔نظام آپ سے گفتگو کرتے رہے۔بہت خوش ہوئے اور کہا کہ کسی وقت حیدر آباد شہر آ کر ملاقات کریں۔جب سیٹھ صاحب کی مالی حالت سخت ابتر ہوگئی تو لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ نظام سے ملاقات کریں اور اپنی مالی تنگی کا ذکر کریں تو ممکن ہے سرکاری خزانہ سے امدا دمل جائے۔لیکن آپ کی غیور طبیعت نے اسے پسند نہ کیا اور فرمایا کہ میری مالی حالت اچھی ہوتی تو ملاقات میں حرج نہ تھا لیکن اس حالت میں مجھے ملاقات پسند نہیں۔ایک غریب کو داماد بنالینا : امیر لوگ شادی بیاہوں میں کیا ناز نخرے نہیں کرتے۔اول تو اپنی لڑکی کے رشتہ کے لئے اپنے سے زیادہ مالدار گھرانہ تلاش کرتے ہیں۔اور اگر امیر رشتہ نہ ملے تو لمبے عرصہ تک لڑکی کو بٹھائے رکھ کر اس کی عمر اور اپنا ایمان ضائع کرتے ہیں۔آپ نے اپنی ایک بیٹی کی شادی اخویم مولوی محمد اسماعیل صاحب سے کی جو کہ ایک غریب گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے۔اور جن کے والد آپ کے پاس ابتداء میں دور و پیہ پر ملازم ہوئے تھے۔وہ بھلا کب توفیق رکھتے تھے کہ اپنے بیٹے کو تعلیم دلائیں۔سیٹھ صاحب نے انہیں اعلی تعلیم دلائی اور پھر انہیں شرف دامادی بخشا اور ایک اعلیٰ مثال قائم کر دی۔عبادت گذاری اور خموشی طبع : آپ قُل إِن صَلوتي وَنُسُكِي الخ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔جس میں حیات انسانی کا مقصد رب العلمین کی خوشنودی اور اس کا وصال بتایا گیا ہے آپ کثرت سے درود شریف پڑھتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ درود اور استغفار پڑھنے میں بہت برکت ہے۔