اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 228 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 228

227 تکلم دلفریب۔متین سنجیدہ غریبوں کے شیدائی۔ہر خورد و کلاں اور ادنی واعلیٰ ہر لمحہ آپ سے بات چیت کرنے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں آپ کی بے غرضانہ محبت کو جگہ دینے کے لئے آمادہ ہو جاتا اور آپ بھی عملاً ہر ایک سے ایسا ہی سلوک کرتے گویا کہ آپ کا سگا بھائی ہے۔اخویم خواجہ محمد اسماعیل صاحب درویش بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۲۶ء میں مجھے یاد گیر جانے کا موقعہ ملا۔سیٹھ صاحب کو از حد سادہ۔متواضع، ملنسار اور خلیق پایا۔آپ کی ملاقات مہمان نوازی اور پر تپاک حسن سلوک سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میری آپ سے برسوں کی ملاقات اور پرانی واقفیت ہے۔اور میں غیر جگہ نہیں بلکہ اپنے ہی گھر میں ہوں۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نام و نمود سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔آپ کی طبیعت کی ایسی افتاد کا اظہار اس واقعہ سے ہوگا کہ میری ہمشیرہ کی شادی تھی آپ کی اہلیہ محترمہ رسول بی صاحبہ جو ہماری تائی بھی ہیں اور خالہ بھی۔شادی پر آنے لگیں تو سیٹھ صاحب سے ہدیہ دینے کے لئے رقم لینا چاہی۔لیکن آپ نے نہ دی۔خالہ جان دل گرفتہ ہوئیں کہ لوگ کیا خیال کریں گے کہ اتنے بڑے سیٹھ کی بیوی اپنی بھانجی کی شادی پر خالی ہاتھ آئی ہیں۔غرض شادی ہو چکی اور شادی پر آنے والے واپس جاچکے تو دو تین روز بعد آپ ہمارے ہاں آئے اور پندرہ تولے سونا بطور تحفہ دے گئے۔طبیعت میں نرمی : آپ نرم طبع آقا تھے۔ایک دفعہ ایک خادمہ نے چاول پر الئے کہنے لگے اسے اور دے دو۔ایک دفعہ آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں لفافہ دیا گیا لیکن وہ خالی نکلا اس میں رقم نہیں۔چنانچہ یاد گیر سے چنت کننہ پانصد کا بیمہ پہنچا جو خالی نکلا اس میں رقم موجود نہ تھی۔سرکاری طور پر تحقیقات شروع ہوئی۔سیٹھ صاحب نے اپنی طبعی حسن ظنی کی بناء پر کہا کہ میرے کارندے دیانتدار ہیں۔سرکاری تحقیقات میں انہی کارندوں کی شرارت بپا سید ثبوت پہنچی۔سیٹھ صاحب کے ایک تیس سالہ ملازم امیر علی نے تلبیس نشان تجارت کی جھوٹی کا رروائی عدالت میں کی۔عدالت نے آپ کو بری کر دیا۔ہائی کورٹ نے آپ کو ہرجانہ کا مستحق قرار دیا۔لیکن آپ نے معاملہ خدا پر چھوڑ دیا اور ہر جانہ وصول کرنا پسند نہ کیا۔آپ کا نہ صرف انسانوں سے مشفقانہ سلوک تھا بلکہ حیوانوں سے بھی ایسا ہی سلوک تھا۔ان کے متعلق یہ خیال رکھنے کی تاکید کرتے کہ ٹھو کے نہ رہیں ورنہ ہم قیامت کو قابل مواخذہ ہونگے۔طبیعت میں دلیری اور غیوری: باوجود طبیعت میں حد درجہ کے انکسار اور نرمی کے اور اسلامی سادگی رکھنے کے آپ نڈر دلیر طبع اور غیور بزرگ تھے۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب ذکر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اعلیٰ حضرت نظام دکن گلبرگہ آنے والے تھے