اصحاب احمد (جلد 1) — Page 230
229 آپ کثرت سے درود اور استغفار پڑھا کریں۔آپ رات کو جلد سو جاتے اور تین ساڑھے تین بجے صبح اٹھ کر تہجد ادا کرتے پھر صبح تک نہ سوتے۔آپ کم گو لیکن نغز گو تھے۔بعض دفعہ کئی کئی ماہ تک مطلقا خاموش رہتے۔متواتر کئی دنوں تک خاموش رہنے کا طریق آپ متعدد بار اختیار کرتے تھے۔آپ کی تقریر بھی صرف چند جملوں پر مشتمل ہوتی تھی۔بزرگوں کی تکریم۔اقارب سے حسن سلوک: نیک لوگ تمول کے باوجود منکسر المزاج رہتے ہیں اور بمطابق ہر کہ عارف تر است ترساں تر اور زیادہ انکسار دکھاتے ہیں۔جیسے پھلدار شاخ جتنی زیادہ پھل سے لاتی ہے اتنی زیادہ جھکتی ہے۔سیٹھ صاحب بزرگوں کی تکریم کرتے اور اقارب سے حسن سلوک کرتے تھے۔بزرگان سلسلہ میں سے مولوی شیر علی صاحب ، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مفتی محمد صادق صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب میر محمد سعید صاحب سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سیٹھ محمد غوث صاحب اور نواب اکبر یار جنگ صاحب کو کثرت سے یاد کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہماری زندگیاں گزارنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ان بزرگوں کی زندگیوں کے مطابق زندگی ڈھالنا سعادتمندی ہے۔چونکہ میر محمد سعید صاحب کے ذریعہ آپ کو احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔اس لئے ان کی بہت قدر کرتے۔اور ان کی باتوں پر عمل پیرا ہوتے تھے۔دولت کے نشہ میں لوگ صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی کرتے ہیں۔آپ دل و جان سے اقارب سے محبت کرتے۔ان کی شادی غمی اور ہر طرح کے کام کاج میں ان سے بڑھ کر حصہ لیتے جس مقام پر آپ کے اقارب سکونت پذیر ہوتے جب بھی وہاں جاتے اس وقت تک اس مقام سے واپس نہ ہوتے۔جب تک کہ اپنے تمام غریب اعزہ سے ملاقات نہ کریں۔ان کی خیریت پوچھتے اور دامے درمے سخنے مدد کرتے۔زیادہ تر دینی اور تربیتی باتیں کرتے اور خدمت دین زیادہ کرنے اور زندگیوں کو سادہ بنانے کی تاکید کرتے۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ دورہ کرتے کرتے ہر پندرہ ہمیں روز کے بعد حیدر آباد شہر پہنچتے اور ہمیشہ ہمارے ہاں ہی قیام فرماتے تھے۔آپ تمام بچوں کو جمع کرتے۔قرآن مجید کی تلاوت اور نمازوں بالخصوص تہجد کی ادائیگی کی تلقین فرماتے اور دوسری مرتبہ جب آتے تو دریافت کرتے کہ اس پر کہاں تک عمل کیا گیا ہے۔گوشہر میں دوسرے رشتہ دار کافی دور دور رہتے تھے۔لیکن ان سے ملے بغیر واپس نہ جاتے تھے۔خدمات سلسلہ : اللہ تعالیٰ نے جس کثرت سے رزق دیا اُسی کثرت سے آپ نے اُسے بے دریغ اس کی راہ میں خرچ کیا۔آپ نے بہت سے بچے تعلیم کی خاطر قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک سے