اصحاب احمد (جلد 1) — Page 176
174 کرتے۔دوسروں کی تعریف کرنے میں وہ بہت کشادہ دل تھے۔لیکن کسی کی جھوٹی تعریف نہ یہ کہ وہ خود نہیں کر سکتے تھے بلکہ سُن بھی نہیں سکتے تھے۔حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کے بخاری کے درس میں باقاعدہ حاضر ہوتے تھے اور اس طرح استفادہ کرتے تھے جس طرح ایک بچہ اپنے استاد سے سیکھتا ہے۔حضرت میر صاحب سے ان کو ان کے علمی تبحر کی وجہ سے بے حد محبت تھی۔شوق مطالعہ : ان کو ہر قسم کے مطالعہ کا شوق تھا ان کی عمر ۷۰ سال کے قریب ہو چکی تھی لیکن پھر بھی وہ روزانہ کئی گھنٹہ مطالعہ کرتے تھے اور کبھی کبھی الفضل میں مضامین بھی لکھتے رہتے تھے۔قرآن کریم با قاعدہ پڑھتے تھے اور اس کے مطالب پر تدبر کرتے تھے۔جہاں ان کی طبیعت کا یہ حال تھا کہ ہر جگہ سے علمی باتیں جمع کرتے رہتے تھے اور کشادہ دلی سے اقرار کرتے تھے کہ فلاں نکتہ میں نے فلاں صاحب سے سنا وہاں دوسری طرف وہ سخت غیر مقلد بھی تھے محض کسی بات کو اس لئے قبول نہیں کرتے تھے کہ کسی بڑے آدمی نے وہ بات کہی ہوئی ہوتی تھی۔خدمت خلق : ملک صاحب کو ہومیو پیتھک طریقہ علاج کا بہت شوق تھا اس کے متعلق ہمیشہ کتابیں منگواتے رہتے اور مطالعہ کرتے تھے اور خود علاج بھی کر لیتے تھے۔* کل کا فکر نہ کرنا : طبیعت کی بے پروائی سمجھئیے یا تو کل علی اللہ ملک صاحب کو کل کا کبھی فکر دامنگیر نہ ہوا۔وہ اپنی ساری تنخواہ ماہ بماہ خرچ کر دیتے تھے اور حالات بھی کچھ ایسے ہی * ملک سعید احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ گورداسپور کی ملازمت میں الیکٹرو ہومیو پیتھک ادویہ سے بہت متاثر ہوئے۔چنانچہ آپ یہ ادویہ لوگوں کو مفت دیتے تھے۔اور اگر کوئی ان کے عوض کچھ دیتا بھی تو نہ لیتے بلکہ صاف کہہ دیتے کہ میرا ان پر خرچ نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کا اثر میرے خرچ سے کئی گنا خوشکن ہے۔اس لئے میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے کہ غرباء صحت یاب ہو کر میرے لئے دعا کریں۔بعد میں آپ نے یونانی ویدک اور ایلو پیتھی کی چند دواؤں سے متاثر ہو کر بعض نسخے بنوائے تھے اور چونکہ تقسیم ملک کے بعد آمدنی کا وہ پہلا سلسلہ نہ تھا اس لئے آخری چند ماہ میں آپ کسی کسی خاص دوائی کی قیمت لاگت لے لیتے تھے۔(مؤلف)