اصحاب احمد (جلد 1) — Page 177
175 ہوتے رہے کہ ملک صاحب خرچ کی وجہ سے کبھی تنگ دست نہ ہوئے اور گو پنشن ملنے کے بعد پہلی سی کشائش رزق میں نہیں رہی تھی لیکن جو کچھ ان کو ملتا تھا وہ اس پر ہی قانع تھے۔میں نے کبھی ان کی زبان سے حالات کی تنگی کی شکایت نہیں سنی۔وہ خدا تعالیٰ کی قضاء پر ہمیشہ راضی رہتے تھے۔ملک صاحب کی صحت عموماً بہت اچھی تھی۔کچھ اس وجہ سے اور زیادہ اس وجہ سے کہ وہ صحابی تھے۔ملک صاحب پانچ وقتہ نمازوں میں بہت با قاعدہ تھے۔محلہ دارالفضل کی رونق زیادہ تر ملک صاحب موصوف۔مولوی غلام حسین صاحب ، مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور حافظ محمد ابراہیم صاحب سے تھی۔خدا کی بے شمار رحمتیں ہوں ان بزرگوں پر۔ان میں سے صرف مولوی بقا پوری صاحب زندہ ہیں۔اور وہ بھی چراغ سحری ہیں۔آہ! ے آں قدح بشکست و آں ساقی نماند یہی بزرگ ہمارے محلہ کی مسجد کی بھی رونق تھے۔آپ کی سادگی ملک صاحب تصنع سے بے زار اور نہایت بے تکلف انسان تھے یہاں تک کہ اپنی اولاد سے بھی بے تکلف تھے۔وہ اولاد کے معاملہ میں بالکل سخت گیر نہ تھے۔میں نے دیکھا کہ بعض اوقات ان کے لڑکے ان سے معصوم مذاق بھی کر لیتے تھے۔اور ملک صاحب ایسے معصوم مزاح سے خوش ہوتے تھے۔بابوا کبر علی صاحب رضی اللہ عنہ ان کے سمدھی تھے لیکن ان دونوں بزرگوں میں بے حد محبت تھی۔* صاحب رؤیا و کشف ہونا : ملک صاحب صاحب رؤیا و کشوف بھی تھے ان کا ایک الہام تو ابھی تک مجھے یاد ہے جب چوہدری کرامت اللہ صاحب ابن بابوا کبر علی صاحب مرحوم و مغفور کی شادی کی تجویز ملک صاحب مرحوم کی بڑی لڑکی سے ہوئی تو چونکہ ملک صاحب اور بابو صاحب رضی اللہ عنہ میں سوائے احمدیت کے تعلق کے اور کوئی پہلی واقفیت نہ تھی۔اس لئے قدرتا ملک صاحب کچھ * بابو صاحب کے ساتھ جو اعلیٰ درجہ کا محبت کا تعلق تھا اس کا ذکر ملک صاحب نے اپنے مضمون 'بابوا کبر علی صاحب مرحوم کی بعض خوبیوں کا ذکر میں کیا ہے۔الفضل جلد ۳۱ نمبر ۲۳۱ بابت یکم اکتوبر ۱۹۴۳ء) (مؤلف)