اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 150 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 150

148 ایک دفعہ حضور امرتسر بمعہ اہل و عیال تشریف لے گئے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دیگر خدام بھی ساتھ تھے۔جماعت احمدیہ نے ایک بڑے مکان کا انتظام کیا۔مگر اس کا جو خاص بڑا کمرہ اور اچھا حصہ تھا وہ مردانہ کیلئے اس خیال سے رکھ لیا کہ اکثر لوگ حضور کی زیارت کیلئے تشریف لاویں گے۔اور زنانہ کیلئے دو معمولی کمروں کا انتظام کیا۔دری دونوں جگہ بچھا دی تھی۔حضرت اقدس نے جب یہ انتظام دیکھا تو اس کو نا پسند فرمایا اور کہا کیا ہمارے لئے یہ حصہ ہے ( یعنی زنانہ حصہ ) اور اسی وقت مردانہ حصہ میں مستورات کو رکھ دیا اور دوسرے کمرے مردوں کیلئے رہنے دیئے۔وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب قریباً سارا دن بیٹھ کر لوگوں کی روحانی اور جسمانی امراض کا علاج کیا کرتے۔ہر شخص کو قریب بیٹھنے کا شوق ہوتا۔ایک وقت میں جو دیر سے آیا تو پیچھے رہ گیا۔جہاں آواز نہ پہنچتی تھی۔حضرت مولوی صاحب فرش پر سب لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے اور حضور کے پیچھے ایک چار پائی پڑی تھی۔میں قریب ہونے کی غرض سے دیوار کے ساتھ ساتھ جا کر اس چار پائی پر مولوی صاحب سے اونچا بیٹھ گیا۔مگر میرے دل میں خیال آیا کہ یہ بے ادبی نہ ہو۔میں نے عرض کیا (کہ) آپ اسے بے ادبی نہ خیال فرما دیں، میں باتیں سننے کی غرض سے قریب ہونے کو یہاں آکر بیٹھ گیا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں تو اس کی پروا نہیں کرتا۔لیکن اگر تمہارے دل میں آتا ہے کہ یہ بے ادبی ہے تو ایسا مت کرو۔میں نے کہا تو سہی کہ میرا ایسا خیال نہیں مگر او پر بیٹھنے کو میرا دل نہ چاہا اور میں نیچے ہو کر بیٹھ گیا۔امرتسر میں تقریر اور ماہ رمضان میں چائے پینے پر شور و غوغا : ” غالباً اسی موقعہ کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کا لیکچر بندے ماترم ہال میں ہو ا۔حضور نے یہودیت عیسائیت اور اسلام کی تعلیم کا مقابلہ کیا۔اور فرمایا کہ یہودیت انتظام پر زور دیتی ہے۔عیسائیت بالکل عفو پر۔مگر اسلام کی تعلیم درمیانی ہے۔انتقام کے موقعہ پر انتقام اور عفو کے موقعہ پر عضو کا حکم دیتا ہے۔گو یہ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔مگر بوجہ سفر حضرت اقدس نے روز نہیں رکھا ہوا تھا۔حضور جب تقریر فرمارہے تھے اور لوگ اطمینان سے سُن رہے تھے کہ مفتی فضل الرحمن صاحب حکیم نے چائے کا پیالہ حضوڑ کے پیش کر دیا۔حضور نے دو دفعہ توجہ نہ دی۔مگر جب انہوں نے بالکل منہ کے قریب ہی کر دیا تو حضور نے چائے لیکر پی لی۔پھر