اصحاب احمد (جلد 1) — Page 151
149 کیا تھا چاروں طرف سے وہ شور اور گالی گلوچ شروع ہو گیا کہ رمضان شریف کی بے حرمتی کی روزے نہیں رکھتے۔اور کیا کیا آواز میں آئیں اور لوگ آمادہ فساد ہو گئے۔پولیس کے کہنے سے حضور پر دے کے پیچھے چلے گئے مگر شور جاری رہا۔پھر پشت کے دروازہ کی طرف گاڑی (لینڈ و) لائی گئی اور حضور اس میں سوار ہو کر چل پڑے۔لوگوں کے اثر دحام میں سے کسی نے اینٹ کسی نے پتھر، کسی نے مٹی کسی نے جوتا پھینکا گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا لیکن حضور بے گزند اپنی آرام گاہ پر پہنچ گئے۔اس وقت ایک مولوی یہ واویلا کرتا تھا ہائے ہائے مرزا ہائے ہائے مرزا مگر ایک اور مولوی صاحب یہ کہہ رہے تھے ہائے آج لوگوں نے پتھر مار کر مرزے کو نبی بنا دیا۔الغرض یہ دو طرح کا واویلا لوگ کر رہے تھے۔اور انہوں نے عجیب بربریت کا ثبوت دیا تھا۔جب ہم نے دیکھ لیا کہ حضور جاچکے (ہیں) تو ہم حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہمراہ اسی دروازہ سے باہر بازار میں نکلنے لگے۔کسی شخص نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ٹھہر جاویں لوگ پتھر ماررہے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے ایک درد بھرے دل سے کہا وہ گیا جس کو مارتے تھے۔مجھ کو کون مارتا ہے۔یہ (بات) ہر کسی کو نصیب نہیں۔چنانچہ ہم سب ان کے ہمراہ نکل آئے اور بازار میں سے ہوتے ہوئے آرام گاہ کو چلے گئے۔اگر چہ وہ پتھر مارنیوالے موجود تھے مگر کسی نے ہم کو کوئی پتھر نہیں مارا۔تمام احمد یوں کو نہایت افسوس تھا کہ حضرت اقدس کا لیکچر کیوں رُک گیا۔ہر شخص مفتی فضل الرحمن صاحب پر ناراض تھا کہ جب حضور نے مانگی نہیں تھی تو انہوں نے زبر دستی چائے کیوں پیش کی اور اس طرح فتنہ کا موجب ہوئے۔ہمارے بھی چونکہ مفتی صاحب دوست تھے۔ہم نے اور بالخصوص سردار فضل حق صاحب نے مفتی صاحب کو کہا۔مفتی صاحب سب کام تم نے خواہ مخواہ خراب کیا۔قریباً ہر شخص مفتی صاحب کو ملامت کرتا تھا اور مفتی صاحب شرمندہ ہو کر رہ جاتے تھے ( اور خفت مٹانے کے لئے) کچھ یونہی سا جواب دیتے تھے۔اسی اثناء میں کسی نے حضرت اقدس کے حضور بھی عرض کر دیا کہ حضور لیکچر تو خوب ہورہا تھا لوگ سُن بھی رہے تھے مفتی صاحب نے خواہ مخواہ غلطی کی اور شور کروادیا۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں۔مفتی صاحب نے کوئی برا کام نہیں کیا۔رسول کی سنت کے مطابق سفر میں