اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 27 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 27

27 وو۔۔اولیاء اللہ خدا سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور ان کے ہاتھ میں دس روپیہ سفید اور صاف ہیں۔۔۔۔۔ان روپوں میں سے نور کی کرنیں نکلتی ہیں جیسا کہ چاند کی شعاعیں ہوتی ہیں۔وہ نہایت تیز اور چمکدار کرنیں ہیں جو تاریکی کو روشن کر دیتی ہیں۔شاید اس کی یہ تعبیر ہے کہ ان کیلئے خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی نہایت نیک حالت در پیش ہے۔اسلام میں عورتوں میں بھی صالح اور ولی ہوتی رہی ہیں جیسا کہ رابعہ بصری رضی اللہ عنہا۔“ خواب سے کہ ایک قسم کا کشف تھا نہایت خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے کل سے میں نے ارادہ کیا ہے کہ آپ کی دعا کے ساتھ ان کو بھی شریک کر دوں۔۔۔اصل میں دنیا اندھی ہے کسی شخص کی باطنی حالت کو معلوم نہیں کر سکتی کل میں نے ارادہ کیا کہ ہماری دولڑ کیاں ہیں مبارکہ اور امۃ النصیر۔پس امتہ الحمید بیگم کو بھی اپنی لڑکی بنالیں اور اس کیلئے نماز میں بہت دعائیں کریں تا ایک آسمانی روح خدا اس میں پھونک دے۔وہ لڑکیاں تو ہماری کم سن ہیں۔شاید ہم ان کو بڑی ہوتی دیکھیں یا عمر وفا نہ کرے۔مگر یہ لڑکی جوان ہے۔ممکن ہے کہ ہم باطنی توجہ سے اس کی ترقی بچشم خود دیکھ لیں۔پس جبکہ ہم ان کو لڑکی بناتے ہیں تو پھر آپ کو چاہئے ہماری لڑکی (کے ) ساتھ زیادہ اصحاب احمد جلد دوم ص 210 تا 212) ہمدردی اور وسیع اخلاق سے پیش آویں“ حضور کی غایت درجہ کی خوشنودی حضور نے اپنی تالیفات میں اور خطوط میں آپ کے متعلق غایت درجہ کی محبت و خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور حضرت نواب صاحب کی سعادت ور شد پر خوش ہیں اور حضور کی فراست صحیحہ شہادت دیتی ہے کہ آپ بہت جلد قابل رشک اخلاص اور محبت کے منار تک پہنچیں گے اور آثار صلاحیت و تقویٰ آپ کیلئے اور آپ کی اولا د ( کے لئے ) بہت ہی مفید ہیں۔حضور آپ کیلئے بالالتزام پنجوقت نماز میں اور نماز کے علاوہ دعا کرتے تھے اور پر یقین تھے کہ یہ دعائیں خالی نہیں جائیں گی اور آخر ایک معجزہ کے طور پر ظہور میں آئیں گی۔فرمایا میں دعا میں ست نہیں ہوں گا۔جب تک اس قسم کا معجزہ نہ دیکھ لوں۔حضور آپ کو جماعت کے چوٹی کے چھ سات مخلص افراد میں شمار کرتے تھے اور فرمایا کہ ایک امر سے نواب صاحب کا ارادہ الہی سے توار دہوا۔نیز حضور فرماتے ہیں۔اگر وہ دعا جو گویا موت کا حکم رکھتی ہے اپنے اختیار میں ہوتی تو میں اپنے پر آپ کی راحت کیلئے سخت تکالیف اٹھا لیتا۔افسوس کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے ایسی دعا خدا تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں نہیں رکھی۔بلکہ جب وقت آجاتا ہے تو آسمان سے وہ حالت دل پر اترتی ہے۔امید رکھتا ہوں کہ