اصحاب احمد (جلد 12) — Page 28
28 کسی وقت وہ حالت پیدا ہو جائے گی“ حضور یہ بھی رقم فرماتے ہیں :۔میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اس جہان کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دار السلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھاوے“ حضور کی دعاؤں کی قبولیت۔صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ سے ازدواج حضرت اقدس نے آپ کی بیعت قبول کرتے ہوئے رقم فرمایا تھا کہ:۔66 ”خدائے تعالیٰ کے حضور میں دعا کرو کہ اے رب العالمین ! تیرے احسانوں کا میں شکر یہ نہیں کرسکتا۔تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا، جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین یہ دعا یقیناً پا یہ قبولیت پہنچی اور آپ نے رضائے الہی کے حصول کی توفیق پائی۔حضور تا دم واپسین آپ سے راضی رہے اور آپ کی زوجہ دوم کے انتقال کے بعد حضور نے اپنی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبه زاد مجدها کو جن کے متعلق الہام ” نواب مبارکہ بیگم ہو چکا تھا آپ کے عقد زوجیت میں دے دیا۔یہ رشتہ بھی ایک نشان تھا۔کیونکہ یہ الہام نومبر 1901ء میں ہوا تھا۔جبکہ آپ صرف چہار سالہ بچی تھیں اور نواب صاحب کا گھر ایک نو جوان خاتون سے آباد تھا۔پانچ سال بعد یہ خاتون وفات پاگئیں۔حضور آپ کیلئے دوسری جگہ شادی کی کوشش کرتے رہے۔لیکن ہر بار بات رہ جاتی رہی۔ایک بار حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اول ) رضی اللہ عنہ نے اس الہام کی طرف اشارہ کیا تو نواب صاحب کی توجہ ہوئی اور بالآخر اس بارہ میں تحریک کامیاب ہوئی۔اس رشتہ کے انعقاد سے سولہ سترہ سال قبل 1891ء میں حضور نے آپ کو رقم فرمایا :۔ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہوگئی اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ ابھارتا ہے ویسی صورت پیدا ہوئی۔کسی قسم کا اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جل شانہ کی طرف سے آپ کیلئے مقرر