اصحاب احمد (جلد 12) — Page 191
191 مسلسل سے ہیں۔اور دوسرے کون سے ہیں۔کیونکہ ہم نے ابا جان کو یہ فرق کرتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ایک خاوند کی حیثیت سے ابا جان کو پر کھنے پر سارے خاندان میں آپ کی محبت کو مثالی پاتی ہوں۔محبت کے ساتھ امی جان کی بے حد عزت و احترام آپ کے دل میں تھا۔آپ ہمیں ہمیشہ کہتے تھے کہ خدا کا بے حد شکر کرو کہ اس نے تمہیں اتنی اچھی ماں دی ہے۔یہ بھی کہتے کہ میرے پر خدا نے کتنا بڑا فضل کیا ہے اور ہر وقت ہمیں تاکید تھی کہ امی جان کیلئے یہ کرو اور وہ کرو۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر میرے باپ اور دادا کے گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹیاں بیاہ کر آئیں تو انہوں نے بھی اپنے نمونہ سے حضرت مسیح موعود کی بیٹیاں بن کر دکھایا اگر خاوندوں کی طرف سے محبت اور عزت اور احترام انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔تو حضور کی بیٹیوں کی طرف سے بھی ادا ئیگی حقوق میں کبھی کمی نہیں آئی۔امی جان نے ابا جان کی بیماری میں جو خدمت کی وہ سب کیلئے ایک مثال ہے۔پانچ سال بیماری کے جو بستر پر گزرے اس عرصہ میں ابا جان کو شدید عوارض لاحق ہوتے رہے۔ہجرت کے بعد حالات بدل گئے تھے۔پرانے نوکر ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔نئے نوکر اول تو ملتے ہی مشکل سے تھے اور پھر سخت دماغ دار ، امی جان نے اپنے ہاتھ سے ابا جان کے پاٹ تک اٹھائے ایک وقت ایسا آیا کہ ڈاکٹرں نے ہدایت دی کہ ابا جان کو جتنا پانی دودھ وغیرہ سیال چیزیں دی جائیں ان کا وزن لکھا جائے اور جتنا پیشاب آئے اسے ماپ کر لکھا جائے۔اب گرمیوں کے دن لمحہ لمحہ بعد پانی وغیرہ کا ناپنا اور پھر لکھنا اور ادھر پیشاب ناپ کر لکھنا۔یہ ساری محنت امی جان خود کرتی تھیں۔لڑکیاں جو شادی شدہ تھیں وہ اپنے اپنے گھروں کو جا چکی تھیں کب تک ٹھہر سکتی تھیں۔سارا کام امی جان پر تھا۔مگر امی جان نے کبھی گھبراہٹ کا اظہار تک نہیں کیا۔خود بھی حوصلہ رکھا اور ابا جان کا حوصلہ بھی بڑھاتی رہیں اور کبھی بھی بیماری کے کمرے کو dull نہیں ہونے دیا۔ڈاکٹر یوسف صاحب (ابا جان کے مستقل معالج ) کہتے تھے۔نواب صاحب! ہم ڈاکٹر آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آج تک کسی مریض کا ایسا علاج نہیں ہوا۔اور نہ کسی مریض کی کبھی ایسی نرسنگ ہوئی ہے۔اگر آپ دو نرسیں رکھ لیتے۔تو بھی آپ کو ایسی نرسنگ نہیں مل سکتی تھی۔اتنا صاف اور باقاعدگی کا کام تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے کوئی ٹرینڈ نرس کر رہی ہے بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر۔بیماریوں کے دوران کئی دفعہ ابا جان کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔وہاں بھی امی جان کو نرسوں کا کام پسند نہیں آتا تھا اور ڈاکٹر سے اجازت لے کر دوائیاں وغیرہ سب کچھ اپنے ذمہ لے لیتی تھیں۔ہزارہا