اصحاب احمد (جلد 12) — Page 190
190 ہاں آنا تو (سوائے بیماری کے ایام کے ) اٹھ کر کھڑے ہو جاتے۔میں نے نہیں دیکھا کہ ابا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتوں کو خواہ وہ کتنی چھوٹی عمر کے ہوں کبھی خالی نام لے کر بلایا ہو۔ضرور پہلے میاں کا لفظ بولتے تھے۔آپ کی شروع سے یہ شدید خواہش تھی کہ میری بیٹیوں کی شادیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتوں سے ہوں اور بیٹوں کیلئے پوتیاں آئیں۔یہ خواہش اتنی شدید تھی کہ اکثر اس کا اظہار بھی کر دیتے تھے اور دعا بھی یہی کرتے تھے۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ قریباً ہر لڑکی کے متعلق ابا جان کی آزمائش ہوئی۔اس طرح کہ ایک پیغام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پوتے کی طرف سے ہوتا تھا۔لیکن اس کی دنیوی حیثیت اس وقت کچھ نہیں ہوتی تھی اور ایک پیغام کسی غیر از خاندان ایسے لڑکے کا ہوتا جو د نیوی لحاظ سے اچھی حیثیت کا ہوتا تھا۔مگر ابا جان فیصلہ آخر حضرت مسیح موعود کے خاندان کے رشتہ کے حق میں کرتے تھے۔بلکہ کوئی اعتراض کرتا تو کہتے کہ مجھے حضرت مسیح موعود کی دعاؤں پر اور اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ کی اولاد کیلئے کئے ہیں۔ان پر پختہ ایمان ہے۔اپنے وقت پر سب کچھ دیکھ لینا۔آخری اور اٹل فیصلہ ابا جان کا یہی ہوتا تھا۔اور سب کو وہی ماننا پڑتا تھا۔میرے دادا حضرت نواب محمد علی خان صاحب ( اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں آپ پر ہمیشہ نازل ہوں ) پہلے شخص تھے جو ہمیں اس چشمہ پر لائے۔ورنہ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہمارا بھی وہی حشر ہوتا۔جواکثر نوابوں کے خاندان کا حال تھا۔جہالت، بے دینی اور گمراہی کی بے نور زندگی۔ہم سب اپنے دادا کوا با حضور کہتے تھے۔آپ کا اپنی اولاد پر باوجود انتہائی محبت کے بہت رعب تھا اور آپ کے بعض خاص اصول تھے جن پر آپ اپنی اولا د کو سختی سے کار بند رکھتے تھے۔میں نے ابا جان کو ہمیشہ ابا حضور کی خدمت اور اطاعت میں پیش پیش پایا۔میری شادی کے موقعہ پر ابا جان نے بہت سے احباب کو مدعو کیا ہوا تھا۔سینکڑوں کا سامان، پھل اور مٹھائیاں اور فالتو برتن لاہور سے منگوائے گئے تھے۔ابا حضور مالیر کوٹلہ میں تھے اور کسی وجہ سے شادی میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔شادی سے ایک دن قبل ابا جان کے نام آپ کا خط آ گیا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ شادی کے روز نہ بارات کی اور نہ لوگوں کی کوئی دعوت کا انتظام کیا جائے۔کیونکہ میں اصولی طور پر اس کے خلاف ہوں۔مجھے یاد ہے کہ ابا جان نے دعوت روک دی اور وہ اتنی ڈھیروں ڈھیر مٹھائی اور پھل ادھر ادھر لوگوں کے گھروں میں بانٹ کر ختم کیا۔کافی بڑے بڑے ہو کر ، وہ بھی نوکروں سے ہمیں علم ہوا کہ ابا جان کی اپنی والدہ سے بہن اور بھائی کون