اصحاب احمد (جلد 12) — Page 192
192 روپیہ ہر مہینے علاج پر پانی کی طرح خرچ ہوتا تھا۔ایک لمحہ کیلئے بھی کبھی امی جان کے دل میں یہ انقباض نہیں ہوا کہ یہ خرچ نہ کریں۔اور ساتھ ہی اتنا ہی صدقہ و خیرات۔مگر گھر کے باقی سب خرچ کاٹ دیئے گئے تھے۔میری چھوٹی بہن فوزیہ سات سال کی تھی۔اب بڑے ہو کر اس نے بتایا کہ گڑیا لینے کو میرا دل بہت چاہتا تھا۔مگر میں امی کو نہیں کہتی تھی۔امی جان کوسن کر بہت صدمہ ہوا۔انہوں نے ولایت سے پورے بچے کے قد کی گڑیا اس کو اب منگوا کر دی۔مگر اس وقت سب سے مقدم ابا جان کی ذات تھی۔پانچ سال کے بعد پہلی دفعہ ڈاکٹر نے ابا جان کو دو قدم چلایا۔پہیہ دار کرسی ( wheeled Chair) پر باہر اندر جانے کی غسل خانے تک جانے کی اجازت مل گئی اس پانچ سال کے عرصہ میں امی جان نے نہیں دیکھا کہ گھر میں کیا سامان ہے کیا نہیں۔کسی تقریب میں شرکت نہیں کی۔کسی محفل میں نہیں بیٹھیں۔غالباًا ابا جان کی بیماری کو چار ساڑھے چار سال ہوئے ہوں گے کہ لاہور میں کوئی شادی کی تقریب تھی۔ابا جان نے امی جان کو مجبور کیا کہ آپ اتنا عرصہ سے نہیں نکلیں ،ضرور ہو آؤ۔اس وقت خیال آیا کہ امی جان نے تو اس عرصہ اپنے کپڑوں تک کی طرف بھی توجہ نہیں دی۔جو پہلے تھے وہ اس عرصہ میں پہن لئے۔اس وقت میری بہن شاہدہ کو ابا جان نے حکم دیا کہ ابھی جاؤ اور اپنی امی کیلئے اتنے جوڑے خرید کر لاؤ۔غرضیکہ قربانی کی انتہا تھی۔جوامی جان نے کی۔ابا جان کو ہر وقت اس بات کا احساس ہوتا تھا اور دعا کرتے تھے کہ جلد صحت یاب ہوں تا کہ امی جان کا جو کہ خود بہت کمزور صحت میں تھیں۔بوجھ ہلکا ہو۔آخری بیماری میں معائنہ ( چیک اپ ) کرانے کیلئے تین دن کیلئے گنگا رام ہسپتال میں داخل ہوئے۔یہ غالباً وفات سے ایک مہینہ قبل کی بات ہے۔وہاں جس ڈاکٹر نے ابا جان کو دیکھا۔اس کا توجہ سے معائنہ کرنا ابا جان کو پسند آیا۔اور مجھے اپنے پاس بلا کر کہا۔دیکھو طیبہ ! تمہاری امی کی صحت مجھ سے زیادہ خراب ہے اور وہ اپنا علاج نہیں کروائیں۔میرا معائنہ ہو جائے تو تین دن اپنی امی کو اس کمرے میں رکھ کر ان کا بھی چیک اپ کراؤ۔امی جان کو اکثر سر درد کا دورہ ہوتا تھا اور وہ اکثر صبح کے آخری حصے سے شروع ہو کر بعض دفعہ چوبیس گھنٹے تک رہتا تھا۔دورہ سے سارے اہل خانہ گھبرا جاتے۔گھر میں بالکل خاموشی طاری ہوتی۔ابا جان کی تاکید ہوتی تھی کہ کوئی شور نہ ڈالے، دروازے نہ بجیں ، کمرے میں جانے کی کسی کو اجازت نہ ہوتی سوائے اس کے جو سر دبارہی ہوتی تھی۔ابا جان چائے بنوا کر تیار رکھواتے تھے۔کہ شاید امی