اصحاب احمد (جلد 12) — Page 108
108 کے دل میں کورامین کا ٹیکہ دیا اور سانس دلانے کی کوشش کی۔تا شاید زندگی کی شمع پھر سے روشن ہو جائے لیکن البی تقدیر پوری ہو چکی تھی اور آپ کی روح آپ کے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو چکی تھی۔والد محترم کی حالت 17 ستمبر کی رات 8 بجے سے بگڑ چکی تھی اور آپ نے غالبا محسوس کر لیا تھا کہ اب آخری وقت ہے۔اس لئے برکت اور تسکین کیلئے والدہ محترمہ کو اپنے پاس بٹھا لیا۔چنانچہ والدہ محترمہ تمام رات صبح وفات تک ایک دم کیلئے بھی آپ کے پاس سے نہ اٹھیں۔ہم سب بھائی بہن بھی حتی المقدور خدمت میں مصروف رہے۔والدہ محترمہ اور دوسرے تمام بہن بھائیوں نے اس سانحہ کو صبر ورضا کے ساتھ برداشت کیا۔اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے ساتھ راضی ہو گئے کیونکہ بلانے والا ہے سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر میری دو چھوٹی بہنیں تو صدمہ کی شدت کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے سکتہ کی سی حالت میں رہیں اور یہ مجھتی رہیں کہ ابا جان فوت نہیں ہوئے۔لیکن یہ وقتی غلبہ غم کی وجہ سے تھا۔ورنہ وہ سمجھ گئیں کہ مرنے والے وا پس اس دنیا میں نہیں آیا کرتے۔حضرت والد محترم کی امتیازی خصوصیت وہ عشق و وفاتھی۔جو آپ کو اللہ تعالیٰ ، رسول کریم ﷺ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پھر آپ کی وجہ سے آپ کے اہل بیت اور آپ کی جماعت سے علی حسب المراتب تھی اور اس کا احساس آپ کے پرانے گہرے دوستوں کو بھی تھا۔چنانچہ چند دن ہوئے کینیڈا سے میاں عطاء اللہ صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی کا تعزیتی خط آیا تھا۔وہ لکھتے ہیں :۔میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا۔کہ حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی بے مثال محبت تھی کہ اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا پھر میری والدہ محترمہ کو لکھتے ہیں :۔ان کا سلوک آپ سے ہمیشہ آپ کے شعائر اللہ میں سے ہونے اور پنجتن ہونے کی وجہ سے اس درجہ بے مثال محبت سے پر اور بے مثال تعظیما نہ تھا کہ میں محسوس کرتا تھا کہ یہ حضور علیہ الصلواۃ والسلام سے عشق کا ایک ثمر ہے“۔