اصحاب احمد (جلد 12) — Page 107
107 کیا جاتا تھا کہ پانچ سال کے اندر زندگی کی شمع بجھ جائے گی اور وہ بھی چار پائی پر پڑے رہنے اور یا بیٹھے رہنے کی حد تک اور شاید چند قدم چل بھی سکیں گے۔اور یہ بھی صرف ایک آدھ ڈاکٹر کی رائے تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور دیگر مخلص احباب کی دعاؤں کے نتیجہ میں اس بیماری کے بعد 12 سال مزید عمر عطا فرمائی۔تین چار سال کی شدید بیماری کے بعد والد محترم اس قابل ہو گئے تھے کہ اپنے نجی اور کا روباری امور کی طرف توجہ دے سکیں۔عام طور پر مئی جون میں آپ کی صحت زیادہ اچھی رہتی تھی۔لیکن اس دفعہ خلاف معمول ابتداء مئی سے ہی صحت قدرے کمزور ہوگئی اور یہ کمزوری بڑھتی ہی چلی گئی۔حتی کہ 21 اگست کو آپ کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔تا بہتر علاج میسر آسکے۔چونکہ ہسپتال میں عزیزوں سے علیحدگی کی وجہ سے آپ کی طبیعت گھبراتی تھی۔اس لئے چار دن ہسپتال میں رہنے کے بعد میں آپ کو اپنے گھر پام ویو میں واپس لے آیا۔کیونکہ ڈیوس روڈ والی کوٹھی ان کی اپنی ماڈل ٹاؤن والی کوٹھی کی نسبت طبی مشورہ کیلئے زیادہ مفید تھی اور ضروری ادویات بھی بآسانی مہیا ہوسکتی تھیں۔آخری ایام :۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کی بیماری کے آخری ایام میں ہمیں خدمت کا موقعہ عطا فرمایا۔1949ء میں جو دل کا حملہ ہوا تھا۔اس کے بعد جو بھی زندگی آپ نے پائی وہ واقعی معجزانہ تھی۔اس لئے کہ ہر گز کوئی ڈاکٹر یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔کہ دل کے اتنے شدید حملہ کے بعد وہ اتنے سال زندہ رہ سکیں گے۔اس دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ شفا کی پھر کوئی اعجازی صورت پیدا کر دے گا۔حتی کہ 18 ستمبر کی صبح کو جس دن آپ کی وفات ہوئی۔اور جبکہ نبض محسوس ہونا بھی بند ہو گئی تھی اور بلڈ پر یشر بھی آلہ پر رجسٹر نہیں ہورہا تھا۔اس وقت بھی امید کا پہلو غالب تھا اور ہم لوگ اس کوشش میں تھے کہ کورامین اور گلوکوز کا انٹراو نیس انجکشن دیا جائے۔اور ابھی ڈاکٹر صاحب گلوکوز کے انجکشن کی تیاری میں تھے اور میں والد محترم کو آکسیجن نے کیلئے کھڑا ہوا ہی تھا۔کہ تھوڑی دیر کے بعد والد صاحب نے میری طرف دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ شاید مجھے کچھ کہیں گے کہ یکا یک نزع کی حالت طاری ہوگئی اور ایک دومنٹ کے اندر اندر آپ کی روح آپ کے جسم کو جس میں اس نے 66 سال تک بسیرا کیا تھا چھوڑ کر چلی گئی۔اور آپ بہت آرام کی نیند سوئے ہوئے دکھائی دینے لگے۔اس وقت ہمیں آپ کی موت کا یقین ہو چکا تھا۔لیکن صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے 1949 ء والی بیماری کی کیفیت کے پیش نظر آپ