اصحاب احمد (جلد 12) — Page 109
109 پھر لکھتے ہیں۔میں نے اپنی 14-15 سال کی عمر میں مرحوم کی دعائیں محترم ملک غلام فرید صاحب کی زبان سے سنی تھیں۔اور میں حیران ہوتا تھا کہ مرحوم اپنی جوانی میں کن عاشقانہ جذبات سے اپنے مولی کا دامن پکڑتے ہیں۔ایں سعادت بزور بازو نیست حضرت والد صاحب محترم کو حضرت والدہ محترمہ کا اپنی زوجہ ہونے کے علاوہ بحیثیت دختر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت زیادہ پاس تھا۔اور ان کی زندگی کی مساعی میں سے یہ ایک بڑی کوشش تھی کہ حضرت والدہ محترمہ کو ہرممکن آرام پہنچے۔اور اپنے بچوں کیلئے یہی خواہش رہی۔کہ وہ اپنی والدہ صاحبہ کو خوش رکھیں۔اور ہر ممکن خدمت کریں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بھی آپ کو بہت ہی محبت کا تعلق تھا وہ اپنے عزیز سے عزیز دوست اور رشتہ دار سے بھی کبھی گوارا نہیں کرتے تھے کہ آپ کی شان میں کوئی ایسی بات کہیں جس میں تخفیف کا ذرا بھی شائبہ پایا جاتا ہو۔آخر میں میں ان تمام احباب سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا تعلق رکھتے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والد صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔اور ان کو نیکی اور تقویٰ کا حامل بنائے۔جو حضرت والد صاحب مرحوم کا امتیازی خاصہ تھا۔نیز آپ کی اولا دکو یہ توفیق دے کہ اپنی والدہ محترمہ کی اس اخلاص اور محبت سے خدمت کریں۔جو تا زندگی ان کیلئے باعث تسکین اور راحت بنی رہے۔الفضل 26 اور 27 اکتوبر 1961ء) قرار داد ہائے تعزیت آپ کی وفات پر بہت سی جماعتوں اور اداروں وغیرہ نے قرار دادوں کے ذریعہ تعزیت کا اظہار کیا۔ذیل میں صدرانجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کی قرارداد درج کی جاتی ہے:۔صدرانجمن احمدیہ کا یہ غیر معمولی اجلاس حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر دلی غم واندوہ کا اظہار کرتا ہے۔حضرت نواب صاحب مرحوم کا مقام سلسلہ عالیہ احمدیہ میں عزت واحترم کا حامل تھا۔کیونکہ مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فخر دامادی حاصل تھا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نہایت مخلص صحابی حضرت نواب محمد علی خان