اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 151 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 151

151 ابتداء سے بہت شوق تھا اور دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کرتے تھے اور اپنے کام میں محنت اور شوق سے توجہ کرتے تھے۔اور حقدار کا حق ادا کرتے تھے۔“ 26۔تاثرات جلیل صاحب اخویم مولوی محمد احمد صاحب جلیل پر و فیسر جامعہ احمد یہ ربوہ تحریر کرتے ہیں کہ :۔قادیان سے ہجرت کے بعد خاندان حضرت مسیح موعود کا بیشتر حصہ اور حضرت نواب صاحب رتن باغ لاہور میں رہائش پذیر تھے۔اور بہت سے احمدی کنبے قریب کے مکانات جسونت بلڈنگ اور سیمنٹ بلڈنگ وغیرہ میں فروکش تھے۔ان دنوں خاکسار بھی جسونت بلڈنگ کے ایک حصہ میں مقیم تھا۔اور پنجگانہ نماز کیلئے رتن باغ میں آتا اور حضرت نواب صاحب سے اکثر ملاقات کا اتفاق ہوتا۔ایک دفعہ آپ نے اپنے صاحبزادہ پاشا صاحب کے متعلق ( جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہوں گے ) فرمایا کہ یہ انگریزی مدرسہ میں تعلیم پاتے ہیں۔جہاں دینیات پڑھانے کا انتظام نہیں۔دینیات پڑھانے کا کوئی استاد آپ تلاش کر دیں۔اور استاد کے انتخاب کے تعلق میں کچھ ہدایات بھی دیں۔جن کا مفہوم یہ تھا کہ اگر چہ نو عمر بچے کو پڑھانا ہے تاہم استاد ایسا ہونا چاہئے جو عربی اور دینیات کا اچھا عالم ہو، تنگ مزاج اور سخت طبع نہ ہو۔جس سے بچہ متوحش ہو جائے۔بلکہ نرمی سے بچے کو مانوس کر کے پڑھانے والا ہو۔اور تھوڑا تھوڑ اسبق دے تاکہ بچہ اکتا نہ جائے۔نیز خاص طور پر فر مایا کہ نیک آدمی ہو۔میں نے مختلف اوقات میں کئی افراد کے نام پیش کئے لیکن آپ ہر بار کوئی اور آدمی تجویز کرنے کو فرماتے۔آخر ایک دفعہ مجھے فرمایا کیا آپ خود کچھ وقت نہیں دے سکتے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو حاضر ہوں اور یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مجھے اتنی عربی اور دینیات آتی ہے کہ صاحبزادہ صاحب کو پڑھا سکوں۔لیکن آپ کی ایک شرط بہت کڑی ہے جس پر میں پورا نہیں اترتا۔آپ نے تعجب سے پوچھا کہ وہ کونسی شرط ہے میرے عرض کرنے پر کہ نیک آدمی ہونے کی شرط میں پوری نہیں کر سکتا۔آپ نے خوش ہو کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ یہی تو نیکی ہے کہ انسان اپنے آپ کو نیک نہ سمجھے۔آپ کے اصرار پر میں کچھ عرصہ تعلیم دیتارہا۔“ 27۔جنید ہاشمی صاحب اخویم جنید ہاشمی صاحب بی اے ( سپر نٹنڈنٹ دفتر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ) لکھتے ہیں کہ