اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 152 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 152

152 حضرت مرحوم مسجد نور میں تشریف لاتے۔اگر نوجوان غفلت کے باعث ابھی کھیل رہے ہوتے اور ان کی نماز مغرب باجماعت ضائع ہو جانے کا خطرہ ہوتا۔تو آپ انہیں مسجد میں لے آتے۔ایک دفعہ شام کے جھٹ پٹے میں ہم میں سے بعض نے کوٹھی کے باغ میں سے پھل توڑنے چاہے آپ نے دیکھ پایا اور بلاتے ہوئے کہا کہ اندر آ کر پکے ہوئے پھل کھاؤ۔آپ نے مسکراتے 66 ہوئے سب کی جھولیاں پھلوں سے بھر دیں۔یہ خاموش اور لطیف طر ز نصیحت تھی۔“ 28۔بیان سید سجاد علی صاحب ا خویم سید سجاد علی صاحب ( ابن سید علی احمد صاحب انبالوی صحابی ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرحوم کے ساتھ قرب کا تعلق ہمارے خاندان کو رہا۔میاں عباس احمد خان صاحب کی رضاعت کیلئے حضرت ام المومنین نے والدہ محترمہ غفور النساء بیگم صاحبہ کو سنور سے ماموں قریشی محمد حسین کو کہ کر منگوایا۔دو بہنوں کی پرورش و ہیں ہوئی۔اور حضرت مرحوم نے ہی شادی کے اخراجات برداشت کئے۔ایک کا رشتہ بھی خود ہی تجویز کیا۔اور کوٹھی دارالسلام میں ہی رخصتی کرائی۔والدہ صاحبہ محترمہ قادیان میں قریباً روزانہ آپ کے ہاں جاتی تھیں۔مشاورت وغیرہ کے موقعہ پر جبکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی آمد متوقع ہوتی انہیں چپاتی پکانے کیلئے بلوالیا جاتا۔اکتوبر میں ہجرت کر کے ہم رتن باغ پہنچے نفسانفسی کا عالم تھا۔لنگر خانہ سے قیمت پر کھانا حاصل کرنے کی توفیق نہ تھی۔آپ نے منتظم لنگر خانہ کو اپنے حساب میں کھانا دینے کو لکھ دیا میں آپ کی شفقت سے اس قدر بیباک ہو گیا کہ آپ کے نام پر میں بعض دیگر عزیزوں دوستوں کو کھانا عرصہ تک کھلاتا رہا اور یہ تمام اخراجات آپ ادا فرما دیتے۔ایک دفعہ صرف اس قدر فرمایا کہ چند دن کیلئے کھانے کیلئے کہا گیا تھا۔لیکن معلوم ہوتا ہے ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔1952ء میں ملتان شہر کی ایک فلور مل کا 1/4 حصہ آپ کو الاٹ ہوالیکن سابق الائی قبضہ نہ دیتے تھے۔اس کا انتظام بطور مینجنگ الا نیز آپ کے اور ایک دوسرے صاحب کے سپر د تھا۔میاں عباس احمد خاں صاحب نے مجھے وہاں متعین فرمایا۔آپ صاحب فراش تھے۔حصہ داروں کے نزاع کی وجہ سے اس مل کے حالات مایوس کن تھے۔کوئی آمد نہ تھی۔لیکن معاہدہ کے مطابق آپ نے اس میں سرمایہ لگایا اور ہمیشہ تاکید فرماتے کہ کسی کا حق نہ لیا جائے۔اگر کوئی بد نیتی اور معاہدہ شکنی کا مرتکب ہو تو