اصحاب احمد (جلد 12) — Page 150
150 اعتراض امر ہوتے نہیں دیکھا۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ بچہ دنیوی نہیں بلکہ دینی ذہنیت کا مالک اور مذہبی ماحول کا پروردہ ہے۔آپ حضرت خلیفہ اول کے درس میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔آپ اپنے اہل بیت سے بہت عزت و اکرام سے پیش آتے تھے۔اور بیان کرتے تھے کہ میری دینی و دنیوی ترقی اسی پاک خاتون کے طفیل ہے۔جسے اپنے والد بزرگوار کے باعث برکت حاصل ہوئی ہے۔ان کی مرضی کو ہمیشہ مقدم جانتے۔ہم نے کبھی باہمی اختلاف نہیں دیکھا کوئی بات ہوتی بھی تو آپ خاموشی اختیار کر لیتے۔آپ ان کے پسند کئے ہوئے کھانے پر خوشی کا اظہار کرتے۔آپ اپنی اولا د کیلئے مجسم نیک اسوہ تھے۔کوئی فعل خلاف شرع آپ سے سرزد نہ ہوتا تھا۔بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔جو بچہ دینی امور میں سست ہوتا آپ سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے۔بایں ہمہ أكْرِمُوا أولادَكُمُ کے مطابق اپنی اولاد کا پورا احترام آپ کوملحوظ رہتا تھا۔والدین کا بھی آپ پوری طرح احترام کرتے تھے اپنی کھلائیوں یعنی دایہ، ماما اور دیگر خدمتگاروں سے بھی بہت عزت سے پیش آتے تھے۔اور ان کی بھی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تھے۔ہمیشہ ان سے حسن سلوک اور محبت سے پیش آتے تھے اسی وجہ سے خدام کے دلوں میں بھی آپ کیلئے بہت جذبہ تھا۔ان کو بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھا لیتے تھے۔آپ کھانے پینے میں بہت سادگی پسند تھے۔نفاست پسند تو ضرور تھے۔لیکن کسی کھانے کو نا پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھتے تھے۔البتہ حساس بہت تھے نقص کو فور اسمجھ لیتے جبکہ دوسروں کو اس کا خیال تک نہ ہوتا۔آپ اکثر احباب کو کھانے میں شامل کر لیتے تھے۔کھانے کے انتظامات میں آپ بہترین منتظم ثابت ہوئے۔اس وجہ سے آپ کے والد ماجد پارٹیوں اور کھانے کی دعوتوں اور مہمانوں کے قیام کے انتظام بالعموم آپ کے سپرد کرتے تھے۔آپ بڑی توجہ، تندہی اور خوش اسلوبی سے اسے سرانجام دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے والد ماجد سے ان کے ایک دوست سردار جو گندر سنگھ نے جو پنجاب میں وزیر تھے کہا کہ اپنے بچوں کو بھجوائیں تو میں اعلیٰ ملازمتیں دلوا دوں گا۔حضرت نواب صاحب نے میاں عبد الرحمن خان کا نام لیا۔تو سردار صاحب نے میاں عبد اللہ خاں صاحب کو بھجوانے کیلئے کہا۔لیکن نہ صرف حضرت نواب صاحب نے بلکہ میاں صاحب موصوف نے بھی انکار کیا اور کہا کہ میں دنیوی ملازمت کا خواہش مند نہیں۔اول تو میں سلسلہ کی خدمت کروں گا، ورنہ تجارت۔آپ کو تجارت کا