اصحاب احمد (جلد 12) — Page 94
94 ہر مد کے کام کا ملا حظہ کریں۔اور اس بات کا خاص خیال رکھیں۔کہ کھا نا وقت پر تیار ہوکر مہمانوں میں تقسیم ہو گیا ہے یا نہیں۔مہمان نوازوں کے کام کی خاص طور پر نگرانی کریں۔۔۔۔جلسہ گاہ اور سٹیج کا انتظام مہتم بیرون کے سپر د تھا۔الفضل 6 جنوری 1925 ءص3) (5) سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے 11 اپریل 1944ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں بیان کیا :۔ایک دفعہ رویا میں میں نے دیکھا کہ ہمارے مکانات کے ایک کمرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چار پائی پر بیٹھے ہیں اور میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں۔اتنے میں زلزلہ آیا اور وہ زلزلہ اتنا شدید ہے کہ اس کے جھٹکوں سے مکان زمین کے ساتھ لگ جاتا ہے۔یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگنے لگا ہوں۔مگر معا مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تو یہیں تشریف رکھتے ہیں۔میں کس طرح بھاگ سکتا ہوں۔جب زلزلہ ہٹا اور میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ میاں عبد اللہ خاں باہر کھڑے ہیں۔اتنے میں پھر زلزلہ آیا اور مکان اپنی جگہ پر واپس چلا گیا۔صرف 66 اس کی مٹی ذراسی ٹیڑھی ہے اور میں خواب میں ہی کہتا ہوں کہ مکان اپنی جگہ پر واپس آ گیا ہے۔“ (الفضل 10 مئی 1944 ءص5) خاکسار مولف کے نزدیک یہ رویا زلزلہ تقسیم برصغیر کے متعلق تھا۔اور میاں محمد عبداللہ خاں صاحب کی اہمیت کے پیش نظر وہ رویا میں دکھائے گئے تھے۔چنانچہ میاں عبداللہ خاں صاحب کو تقسیم کے بعد اولین ناظر اعلیٰ کے طور پر خدمات تفویض ہوئیں جو انہوں نے بکمال حسن وخوبی سرانجام دیں۔ظاہر ہے کہ تقسیم ملک کا زلزلہ ایسا شدید تھا کہ لوگوں کو اپنے اوطان سے بھاگنا پڑا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود کے یہاں ہوتے ہوئے میں کس طرح بھاگ سکتا ہوں یہ درست ہے اسی وجہ سے حضور نے مرکز قادیان کو حفاظت مقدس مقامات و اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے آبا در کھا اور اپنے بیٹے اور ایک بھتیجے کو اور ان کی واپسی پر ایک اور بیٹے کو اپنی قائم مقامی میں نیز درویشان کو رکھا۔گویا زلزله عظیمه تو ترک وطن پر مجبور کرتا تھا۔دوسری طرف حضرت اقدس کا جسد اطہر اور مشن مانع تھا۔سو اس مجبوری اور ضروری امور کے بین بین راسته حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا۔” جب زلزلہ ہٹا اور میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ میاں عبداللہ خان صاحب باہر کھڑے ہیں۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہجرت کر کے زلزلہ کی براہ راست زد سے محفوظ ہونے پر حضور کی نظر میاں