اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 163 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 163

163 رہے۔مگر صحت کچھ اچھی نہ رہتی تھی۔اس لئے آپ امتحان پاس کئے بغیر قادیان واپس آگئے۔آپ کی شادی بھی ہو چکی تھی۔کالج کی تعطیلات میں قادیان میں آپ ہماری ملاقات سے بہت خوش ہوتے۔1922ء میں جب وقف کر کے مستقل طور پر قادیان آگیا اور خدمت سلسلہ میں مصروف ہو گیا تو یہ امر آپ کیلئے باعث مسرت ہوا۔1936ء میں میرا قیام ایسے مکان میں ہوا جو کوٹھی دارالسلام کے قریب دار الفضل میں برلب سڑک تھا۔قرب مکانی کے باعث میرے بچے اکثر آپ کی کوٹھی کے اندر چلے جاتے تھے آپ ان سے پیار سے گفتگو کرتے اور مٹھائی یا پھل بھی ان کو دے دیتے۔موسم پر آم بھی تحفہ بھجواتے تھے۔1947ء میں ہجرت کے بعد آپ ناظر اعلیٰ مقرر ہو چکے تھے۔قادیان کی آبادی کا بڑا حصہ ابھی و ہیں تھا اور احباب باری باری قافلوں کی صورت میں لاہور پہنچتے تھے۔اکتوبر کے اختتام پر جب میں مدرسہ کے عملہ کے ساتھ لاہور پہنچا۔تو آپ کو پورے انہماک کے ساتھ کام میں لگے ہوئے پایا۔ان ہنگامی حالات میں محنت شاقہ کا نتیجہ تھا۔کہ آپ کو دل کی مرض کا ایسا شدید دورہ ہوا کہ ڈاکٹر آپ کے جانبر ہونے سے نا امید ہو گئے۔مدرسہ تعلیم الاسلام چنیوٹ میں منتقل ہو چکا تھا۔جہاں ہم نے آپ کی علالت کی رنجیدہ خبر سنی اور بڑے درد سے سارے عملہ نے آپ کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔نہ معلوم جماعت کے کتنے بیکسوں اور بے آسرا افراد نے جو آپ کی امداد سے فیضیاب ہوتے تھے۔دعا کی ہوگی کہ معجزہ رونما ہوا۔جس نے ڈاکٹروں کے سارے قیاسات کو باطل کر دیا اور آپ ایک حد تک صحت یاب ہو گئے۔میں عیادت کیلئے حاضر ہوتا تھا۔تو آپ دعا کی تاکید کرتے تھے۔جب آپ ماڈل ٹاؤن منتقل ہوئے تو میرے وہاں اولین بار جانے پر ساتھ لے کر ساری کوٹھی دکھائی اور دعا کیلئے فرمایا۔صحت یابی کے بعد آپ ربوہ جلسہ سالانہ پر آتے اور واپسی سے قبل اپنے سارے پرانے دوستوں سے مل کر جاتے۔مجھے ملنے کیلئے مدرسہ تشریف لاتے۔میں بھی لاہور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہتا۔ایک دفعہ آپ نے سب بچوں کے متعلق دریافت کیا۔اور اس بچے کا ذکر آیا۔جو 1947ء میں تعلیم الاسلام کالج میں زیر تعلیم تھا۔میں نے عزیز کو ملاقات کرانے کا ارادہ کیا۔جب عزیز کوئٹہ سے عرصہ بعد رخصت پر آیا۔تو میں اسے لاہور آپ کے پاس لے گیا۔ان دنوں آپ پھر