اصحاب احمد (جلد 12) — Page 164
164 سخت بیمار ہو گئے تھے۔لیکن الفضل میں کوئی خبر شائع نہ ہوئی تھی۔اس لئے میں اس سے بے خبر تھا آپ کی کوٹھی پر نماز با جماعت اور ماڈل ٹاؤن کے احباب کا جمعہ ہوتا تھا۔میں نے اندر اطلاع بھجوائی۔لیکن پھر یہ خیال کیا کہ آپ جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوں گے۔نماز جمعہ میں مل لوں گا۔اس لئے سنتیں پڑھنے لگا۔جن سے فارغ ہونے پر معلوم ہوا کہ آپ کا خادم میری تلاش میں ہے۔ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ کی بیماری کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہوا۔فرمایا آپ کہاں چلے گئے تھے۔میں تو کس وقت سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔سارا ماجر اسن کر فرمایا کہ میں تو بہت بیمار ہوں اور گزشتہ دو تین جمعہ میں شریک نہیں ہو سکا۔میں نے معذرت کر کے واپس آنا چاہا۔تو مجھے اپنی چار پائی پر اپنے پاس بٹھا لیا۔اور لڑکے کو سامنے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔میں نے عرض کی کہ یہ وہی بچہ ہے جس کا ذکر آپ نے گزشتہ ملاقات میں کیا تھا۔آپ کی علالت کی وجہ سے کمرہ کے دروازوں پر پردے ڈال دیئے گئے تھے تا روشنی مدھم ہو جائے۔فرمایا روشنی کم ہے میں اس کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتا۔لڑکا روشنی کی طرف ہو گیا۔اس کو دیکھا اور دعا دی میں نے دوبارہ اجازت چاہی۔فرمایا ابھی نماز میں کافی وقت ہے۔جی چاہتا ہے کہ آپ تھوڑی دیر اور بیٹھیں۔مگر آپ کے آنے سے بیگم صاحبہ ساتھ کے کمرہ میں تشریف لے گئی ہیں۔ان کی تکلیف کا خیال ہے۔میں ایک دفعہ پھر معذرت خواہ ہوا اور جمعہ کیلئے باہر آ گیا۔یہ میری آخری ملاقات تھی۔آپ کی وفات پر جنازہ رات کے وقت ربوہ پہنچا۔تو میں سوگوار دل کے ساتھ استقبال کیلئے حاضر تھا۔اگلے روز نماز جنازہ اور مرحوم کو آخری آرام گاہ تک پہنچانے میں حصہ لیا۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ۔اے اللہ ! آپ کی تربت پر ہمیشہ ہی اپنی رحمت کی بارش برسا تا رہ۔آمین 32۔تاثرات مولانا ارجمند خان صاحب اکرام ضیف ، تکریم اولاد اور احترام حرم اور ادائیگی حقوق اللہ وحقوق العباد کے تعلق میں نصف صدی کا مشاہدہ استاذی المکرم مولانا ارجمند خان صاحب ( سابق پروفیسر دینیات تعلیم الاسلام کالج ربوہ ) بیان کرتے ہوئے رقم فرماتے ہیں:۔حضرت رسول کریم ﷺ کے ارشاد اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْرِ میں سلف صالحین کے ذکر