اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 162 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 162

162 مگر اس سے پتہ چلتا ہے کہ طالب علمی کے زمانہ میں ہی آپ کو شریعت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا کس قدر خیال رہتا تھا۔مارچ 1914ء میں حضرت خلیفہ اول کے وصال پر جماعت میں اختلاف رونما ہوا اور اختلافی مسائل پر مباحثات کی رو چلی جس میں مدرسہ کے اکثر طلباء بھی سرگرمی سے حصہ لیتے تھے اور خود میاں صاحب بھی ان مذاکرات میں شامل ہوتے تھے۔اسی طرح میرا تعلق ان سے بڑھا اور میرے دینی شوق کو دیکھ کر اپنی حدیث کی کتاب بلوغ المرام مترجم وحشی جو بہت خوبصورت طبع ہوئی تھی مجھے ہدیہ دے دی۔1915ء میں آپ کے ساتھ ہی میں نے بھی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس سال مدرسہ کا نتیجہ نہایت شاندار تھا۔ایک درجن کے قریب طلباء کالج میں داخلہ لینے کیلئے لاہور پہنچے۔آپ گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے۔مگر کالج کے ہوسٹل کا ماحول اپنے مزاج کے موافق نہ پا کر اپنے چچا نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔میں نے ایف سی کالج میں داخلہ لیا مگر قواعد کی لاعلمی کی وجہ سے ہوسٹل میں داخلہ کیلئے بروقت درخواست نہ دے سکا اور سیٹ نہ مل سکی۔علم ہونے پر آپ مجھے اپنے ہاں لے گئے اور قریباً ایک ماہ اپنے ساتھ رکھا اور اس عرصہ میں میری جملہ ضروریات کا پوری طرح خیال رکھا۔لاہور میں ایک بڑی تعداد احمدی طلباء کی کالجوں میں زیر تعلیم تھی۔مگر وہ سب الگ الگ اپنے اپنے ہوٹلوں میں قیام کرتے تھے۔میاں صاحب موصوف کے داخلہ کے بعد قادیان میں یہ تحریک زور سے شروع ہوئی کہ لاہور میں ایک احمد یہ ہوٹل ہونا چاہئے۔جہاں سارے احمدی طلبا مل کر رہیں۔تا دینی ماحول میں ان کی کماحقہ تربیت ہو سکے۔آپ نے بھی اس تحریک کو کامیاب بنانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور آپ کی مساعی بار آور ہوئیں اور احمد یہ ہوٹل کا وجود عمل میں آگیا۔احمدی طلباء کا بیشتر حصہ اس میں داخل ہوا۔جہاں درس و تدریس اور باجماعت نمازوں کا سلسلہ جاری ہوا۔اس طرح قادیان کے ماحول کی جھلک احمد یہ ہوسٹل میں بھی نظر آنے لگی۔آپ تہجد اور با جماعت نمازوں کے پابند تھے۔غرباء کی امداد اور دوستوں کی خاطر مدارات آپ کا شیوہ تھا۔آپ کی وجاہت اور نیکی کا اثر سب ملنے والوں پر تھا۔احمدی طلباء نے کالجوں میں تبلیغ احمدیت کا سلسلہ بھی جاری کر رکھا تھا اور ان کے زیر اثر طلباء اکثر احمد یہ ہوٹل میں آتے رہتے تھے۔میاں صاحب ان سے بھی محبت سے ملتے اور یہ ملاقاتی نہایت اچھا اثر لے کر جاتے۔کم و بیش دو سال آپ لاہور میں