اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 160 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 160

160 دوستوں، عزیزوں سے استخارے کرواتے۔حتی کہ گھر کے بچوں کو بھی بار بار دعا کیلئے کہنا اور پھر منتظر رہنا کہ کب کسی پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بشارت ظاہر ہو۔آپ کو جب کوئی ذہنی پریشانی لاحق ہوتی۔تو اکثر ان ایام میں صبح ناشتہ پر اپنے ہاں آمدہ مہمان سے رات کی خوابوں کے بارے میں سوال کرتے سنا۔بڑی یقین اور سنجیدگی کے ساتھ بچوں سے پوچھا کرتے تھے کہ کوئی مبشر خواب دیکھی ہو تو سنا ؤ۔یہی عادت بعض بچوں میں بھی کچھ حد اوسط سے بڑھ کر داخل ہو گئی۔حضرت مسیح موعود کی دامادی کی سعادت کو اپنے لئے ایسا عزت واکرام کا موجب سمجھتے تھے جیسے ذرہ خاک کو آسمان پر کرسی نشینی مل گئی ہو۔اسی بناء پر حضرت پھوپھی جان کے ساتھ نہایت ہی ادب و احترام کا سلوک کرتے تھے۔گو تجارتی اور زمینداری سے متعلق امور میں خود مختار تھے اور اپنی مرضی پر عمل پیرا ہوتے مگر خانگی اور معاشرتی امور میں حضرت پھوپھی جان کی خواہشات کا بہت زیادہ پاس ہوتا۔اپنی بچیوں کی شادیاں حضرت مسیح موعود کی اولاد میں کرنے کی خواہش توازن کے حد سے بڑھی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔اور اس بڑھ ہوئے عشق کی غمازی کرتی تھی جو اس کے پس پردہ کارفرما تھا۔آخری بچی کے سوا باقی سب کے متعلق یہ خواہش تو زندگی ہی میں پوری ہوگئی۔اس کے متعلق بھی بڑی حسرت کے ساتھ یہی خواہش تھی۔غرباء کے ہمدرد، کثرت سے صدقہ خیرات کرنے والے، مہمان نوازی میں طرہ امتیاز کے حامل اس قسم کے فدائی اور خلیق میزبان اس زمانہ میں تو شاذ و نادر ہی ہوں گے۔مہمان کے آرام کا خیال وہم کی طرح سوار ہو جاتا۔میری طبیعت پر آپ کی مہمان نوازی کا ایسا اثر ہے کہ اگر غیر معمولی مہمان نوازی کا جذبہ رکھنے والے صرف چند بزرگوں کی فہرست لکھنے کو مجھے کہا جائے تو آپ کا نام میں اس فہرست میں ضرور تحریر کروں گا۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ 31۔ایک ہم جماعت کے نصف صدی کے مشاہدات آپ کے ہم جماعت بزرگوارم صوفی محمد ابراہیم صاحب ( ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ) اپنے نصف صدی کے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔” میرے ساتھ آپ کے تعلقات کا آغاز 1912ء میں ہوا۔ان دنوں حضرت خلیفتہ المسیح اول اپنے صاحبزادے میاں عبدالحی صاحب کو جو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل تھے۔قرآن کریم بعد