اصحاب احمد (جلد 12) — Page 159
159 کرتے اور بسا اوقات پہلے نمازی ہوتے جو مسجد میں پہنچ کر دوسرے نمازیوں کا انتظار کیا کرتا۔مختلف الانواع لوگوں کیلئے اپنی رہائش گاہ کو پانچ وقت کے آنے جانے کی جگہ بنادینا کوئی معمولی نیکی نہیں خصوصاً ایسی حالت میں اس نیکی کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جبکہ صاحب خانہ کا رہن سہن کا معیار خاصا بلند ہو۔معاشرتی تعلقات کا دائرہ بہت وسیع ہو۔بچیوں کی سہیلیاں ، لڑکوں کے دوست، اپنے ملاقاتی معززین ، عزیزوں رشتہ داروں کی بار بار کی آمد و رفت کہیں مہمانوں کی کثرت سے کمروں کی تنگی ، کبھی گرمیوں کی شاموں میں لان (lawn) کا بڑھا ہوا استعمال۔یہ سب گہما گہمی اپنے مقام پر رہی اور کبھی بھی پنجوقتہ باجماعت نماز کی ادائیگی میں مخل نہ ہوسکی۔باہر یہ اعلان کبھی نہ ہوا کہ چونکہ مستورات باہر صحن میں نکلنا چاہتی ہیں اس لئے آج یہاں نماز نہیں ہوگی۔ہاں بسا اوقات اندر یہ سننے میں آیا کہ ابھی باہر نمازی موجود ہیں جب تک وہ فارغ نہ ہو جائیں باہر نہ نکلو۔حضرت پھوپھا جان ان افراد میں سے نہیں تھے جو خود تو سختی سے نمازوں کے پابند ہوں لیکن بچوں کا اس بارہ میں خیال نہ رکھیں۔کم ہی ایسے بزرگ ہوں گے جو اتنی با قاعدگی سے بلا ناغہ روزانہ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں کی تلقین کرتے ہیں اور پھر تلقین بھی ایک خشک ملاں کی بے لذت متشددانہ تلقین نہیں۔بلکہ ایسی پر اثر تلقین جیسے دل اس کے ساتھ لپٹا ہوا چلا آیا ہو۔اگر کوئی بچہ ستی کرتا تو چہرہ پر غم اور فکر کے آثار بے اختیار ظاہر ہوتے۔اور اگر کوئی بچہ آواز پر فوراً لبیک کہتا تو ناز سے بھری ہوئی خوشی کے جذبات آپ کے چہرہ کو شگفتہ کر دیتے۔جن دنوں پہیہ دار کرسی پر بیٹھ کر اسے اپنے ہاتھوں سے گھماتے ہوئے آپ نماز کیلئے آتے تھے۔اس زمانہ میں نماز سے پہلے میں نے بار ہا ان کو اسی حالت میں اپنے چھوٹے بچوں میں سے کسی کے کمرہ کی طرف نماز کی یاددہانی کروانے کیلئے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔پھر خوب تاکید کر کے مسجد میں چلے جاتے تھے۔تو بچے کے انتظار میں ایسی منتظر نظروں کے ساتھ بار بار کبھی گھر کی طرف اور کبھی گھڑی کی طرف دیکھتے تھے کہ جیسے قرار نہ آرہا ہو۔کبھی کبھی وہیں بیٹھے بیٹھے بلند آواز سے بلاتے۔کبھی کسی آتے جاتے خادم کو کہتے کہ جاؤ میاں سے کہو کہ نمازی انتظار کر رہے ہیں۔پھر جب بچہ وقت پر پہنچ جاتا۔تو خوشی سے بعض اوقات اس طرح ہنس پڑتے۔جیسے کوئی لطیفہ سنا ہو اور اگر نہ پہنچتا تو گہری اداسی آپ کے چہرہ پر سایہ فگن نظر آتی۔دعا گو، دعائیں کروانے والے، دعا گو بزرگوں کی خدمت کو سعادت سمجھنے والے ، رَبِّ اِنى لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِیر کی مجسم تصویر، ہرا ہم کام میں کثرت کے ساتھ بزرگوں،